Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Mujaadalah 58:10

58:10
انما النجوى من الشيطان ليحزن الذين امنوا وليس بضارهم شييا الا باذن الله وعلى الله فليتوكل المومنون ١٠
إِنَّمَا ٱلنَّجْوَىٰ مِنَ ٱلشَّيْطَـٰنِ لِيَحْزُنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَلَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْـًٔا إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ١٠
إِنَّمَا
ٱلنَّجۡوَىٰ
مِنَ
ٱلشَّيۡطَٰنِ
لِيَحۡزُنَ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَلَيۡسَ
بِضَآرِّهِمۡ
شَيۡـًٔا
إِلَّا
بِإِذۡنِ
ٱللَّهِۚ
وَعَلَى
ٱللَّهِ
فَلۡيَتَوَكَّلِ
ٱلۡمُؤۡمِنُونَ
١٠
Sesungguhnya perbuatan berbisik (dengan kejahatan) itu adalah dari (hasutan) Syaitan, untuk menjadikan orang-orang yang beriman berdukacita; sedang bisikan itu tidak akan dapat membahayakan mereka sedikitpun melainkan dengan izin Allah; dan kepada Allah jualah hendaknya orang-orang yang beriman berserah diri.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 58:9 hingga 58:10
مومن کی سرگوشی ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے جس کی طرف تمہیں جمع ہونا ہے، جو اس وقت تمہیں ہر نیکی بدی کی جزا سزا دے گا اور تمام اعمال و اقوال سے متنبہ کرے گا گو تم بھول گئے لیکن اس کے پاس سب محفوظ اور موجود ہیں۔

صفوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مومن کی جو سرگوشی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ہو گی اس کے بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس قدر قریب کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کر لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا، فلاں کیا تھا، فلاں کیا تھا، یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہو گا کہ اب ہلاک ہوا، اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا لیکن کافر و منافق کے بارے میں تو گواہ پکار کر کہہ دیں گے کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں خبردار ہو جاؤ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ [صحیح بخاری:2441] ‏

صفحہ نمبر9354

پھر فرمان ہے کہ اس قسم کی سرگوشی جس سے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور اسے بدگمانی ہو شیطان کی طرف سے ہے، شیطان ان منافقوں سے یہ کام اس لیے کراتا ہے کہ مومنوں کو غم و رنج ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شیطان یا کوئی اور انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا، جسے کوئی ایسی حرکت معلوم ہو اسے چاہیئے کہ «اعوذ» پڑھے اللہ کی پناہ لے اور اللہ پر بھروسہ رکھے، ان شاءاللہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔، ایسی کانا پھوسی جو کسی مسلمان کو ناگوار گزرے، حدیث میں بھی منع آئی ہے۔

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو دو مل کر کان میں منہ ڈال کر باتیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اس سے اس تیسرے کا دل میلا ہو گا“ [صحیح بخاری:6290] ‏

اور روایت میں ہے کہ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو کوئی حرج نہیں۔ [صحیح مسلم:2183] ‏

صفحہ نمبر9355