Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Mulk 67:26

67:26
قل انما العلم عند الله وانما انا نذير مبين ٢٦
قُلْ إِنَّمَا ٱلْعِلْمُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌۭ ٢٦
قُلۡ
إِنَّمَا
ٱلۡعِلۡمُ
عِندَ
ٱللَّهِ
وَإِنَّمَآ
أَنَا۠
نَذِيرٞ
مُّبِينٞ
٢٦
Katakanlah (wahai Muhammad): "Sesungguhnya ilmu pengetahuan (tentang masa kedatangannya) hanya ada pada sisi Allah, dan sesungguhnya aku hanyalah seorang Rasul pemberi ingatan dan amaran yang terang nyata".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

قل انما ................ مبین

” یہاں خالق اور مخلوق کے درمیان پورا فرق ہوجاتا ہے۔ اللہ کی ذات علیحدہ اور ممتاز ہوجاتی ہے ، نہ اس کا کوئی شبیہ رہتا ہے اور نہ شریک۔ اور علم خالص اسی کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے اور تمام مخلوق رسول ، ملائکہ اللہ کے سامنے باادب کھڑے رہ جاتے ہیں۔” کہو اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔ میں تو بس صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں “۔ جس طرح حدیث جبرائیل میں آتا ہے۔

مالمسﺅل عنھا باعلم من السائل ” کہ مسﺅل عنہ سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا “۔ یہ علم نہ رسولوں کے پاس ہے اور نہ فرشتوں کے پاس ہے ، رسول کا کام فقط ڈرانا ہے۔

یہ لوگ شک کے انداز میں قیامت کے بارے میں سوالات کرتے تھے اور اللہ کی طرف سے ان کو نہایت قطعی انداز میں جواب دیا جارہا تھا ، قرآن کریم اپنے مخصوص انداز میں یہ تخیل دیتا ہے کہ گویا یہ دن آہی گیا ہے اور یہ لوگ حشر کے میدان میں ہیں اور قیامت درپیش ہے اور اب وہاں یہ ہورہا ہے۔