Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Mulk 67:9

67:9
قالوا بلى قد جاءنا نذير فكذبنا وقلنا ما نزل الله من شيء ان انتم الا في ضلال كبير ٩
قَالُوا۟ بَلَىٰ قَدْ جَآءَنَا نَذِيرٌۭ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ ٱللَّهُ مِن شَىْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍۢ كَبِيرٍۢ ٩
قَالُواْ
بَلَىٰ
قَدۡ
جَآءَنَا
نَذِيرٞ
فَكَذَّبۡنَا
وَقُلۡنَا
مَا
نَزَّلَ
ٱللَّهُ
مِن
شَيۡءٍ
إِنۡ
أَنتُمۡ
إِلَّا
فِي
ضَلَٰلٖ
كَبِيرٖ
٩
Mereka menjawab: "Ada! Sebenarnya telah datang kepada kami seorang Rasul pemberi ingatan dan amaran, lalu kami dustakan serta kami katakan (kepadanya): Allah tidak menurunkan sesuatupun, kamu (wahai orang yang mendakwa menjadi Rasul) hanyalah berada dalam kesesatan yang besar! "
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 67:9 hingga 67:10

قالو .................... السعیر (76 : 11) ” وہ جواب دیں گے ” ہاں ! خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیات تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو “۔ اور کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے “۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔

جو سنتا ہے اور عقل سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں ڈالتا۔ اور اس طرح انکار نہیں کرتا جو ان بدبختوں نے کیا۔ اور وہ رسولان برحق کو جھٹلانے کی جسارت نہیں کرتا اور نہ اس قدر بھونڈے انداز کی ساتھ ان پر گمراہی کا الزام لگاتا ہے ، بغیر کسی معقول وجہ کے ، الٹا یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا ، تم جھوٹ بول رہے ہو ، جیسا کہ گویا وہ ابھی اللہ کے پاس سے آیا ہے۔