Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Mumtahanah 60:13

60:13
يا ايها الذين امنوا لا تتولوا قوما غضب الله عليهم قد ييسوا من الاخرة كما ييس الكفار من اصحاب القبور ١٣
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَوَلَّوْا۟ قَوْمًا غَضِبَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَئِسُوا۟ مِنَ ٱلْـَٔاخِرَةِ كَمَا يَئِسَ ٱلْكُفَّارُ مِنْ أَصْحَـٰبِ ٱلْقُبُورِ ١٣
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
لَا
تَتَوَلَّوۡاْ
قَوۡمًا
غَضِبَ
ٱللَّهُ
عَلَيۡهِمۡ
قَدۡ
يَئِسُواْ
مِنَ
ٱلۡأٓخِرَةِ
كَمَا
يَئِسَ
ٱلۡكُفَّارُ
مِنۡ
أَصۡحَٰبِ
ٱلۡقُبُورِ
١٣
Wahai orang-orang yang beriman! Janganlah kamu jadikan teman rapat mana-mana kaum yang dimurkai Allah, mereka telah berputus asa daripada mendapat kebaikan akhirat, sebagaimana berputus asanya orang-orang kafir yang ada di dalam kubur.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آخر میں اثر انگیر تبصرہ :

یا یھا الذین .................... القبور (06 : 31) ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، ان لوگوں کو دوست نہ بنایو ، جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے ، جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں “۔

بعض روایات میں آتا ہے کہ اس قوم سے مراد یہودی ہیں ، جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اور اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ قرآن کریم میں کئی جگہ اس قوم کے لئے یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، لیکن یہ آیت عام بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے مفہوم میں وہ لوگ بھی آجائیں جو مشرکین ہیں اور جن کا تذکرہ اس پوری سورت میں ہوا ہے اور اللہ کے تمام دشمن اس سے مراد ہوں۔ کیونکہ اللہ کے سب دشمن آخرت سے مایوس ہیں اور وہ آخرت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اور ان کو تشبیہ ان کفار سے دی گئی ہے جو قبروں میں ہیں۔ ان کو تو معلوم ہوچکا ہے کہ انہوں نے کفر اور شرک کا ارتکاب کیا۔ اب وہ دائمی جہنمی ہیں۔ دنیا کی مہلت ختم ہے۔ اب حشر میں صرف حساب ہونا ہے اور انہوں نے جہنم میں گرنا ہے۔

یہ آخری پکار پوری سورت کی پکاروں کو اور پوری سورت کی دعوتوں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ اس طرح سورت کا خاتمہ اور آغاز ایک ہی مضمون سے ہوا کہ مغضوب علیھم کو دوست نہ بناؤ اور اس خاتمے کے اندر سورت کی تمام آواز کو جمع کردیا گیا۔