Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Munaafiquun 63:4

63:4
۞ واذا رايتهم تعجبك اجسامهم وان يقولوا تسمع لقولهم كانهم خشب مسندة يحسبون كل صيحة عليهم هم العدو فاحذرهم قاتلهم الله انى يوفكون ٤
۞ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِن يَقُولُوا۟ تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۖ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌۭ مُّسَنَّدَةٌۭ ۖ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ ۚ هُمُ ٱلْعَدُوُّ فَٱحْذَرْهُمْ ۚ قَـٰتَلَهُمُ ٱللَّهُ ۖ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ ٤
۞ وَإِذَا
رَأَيۡتَهُمۡ
تُعۡجِبُكَ
أَجۡسَامُهُمۡۖ
وَإِن
يَقُولُواْ
تَسۡمَعۡ
لِقَوۡلِهِمۡۖ
كَأَنَّهُمۡ
خُشُبٞ
مُّسَنَّدَةٞۖ
يَحۡسَبُونَ
كُلَّ
صَيۡحَةٍ
عَلَيۡهِمۡۚ
هُمُ
ٱلۡعَدُوُّ
فَٱحۡذَرۡهُمۡۚ
قَٰتَلَهُمُ
ٱللَّهُۖ
أَنَّىٰ
يُؤۡفَكُونَ
٤
Dan apabila engkau melihat mereka, engkau tertarik hati kepada tubuh badan mereka (dan kelalukannya); dan apabila mereka berkata-kata, engkaujuga (tertarik hati) mendengar tutur katanya (kerana manis dan fasih. Dalam pada itu) mereka adalah seperti batang-batang kayu yang tersandar (tidak terpakai kerana tidak ada padanya kekuatan yang dikehendaki). Mereka (kerana merasai bersalah, sentiasa dalam keadaan cemas sehingga) menyangka tiap-tiap jeritan (atau riuh rendah yang mereka dengar) adalah untuk membahayakan mereka. Mereka itulah musuh yang sebenar-benarnya maka berjaga-jagalah engkau terhadap mereka. Semoga Allah membinasa dan menyingkirkan mereka dari rahmatNya. (Pelik sungguh!) Bagaimana mereka dipalingkan (oleh hawa nafsunya - dari kebenaran)?
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

واذا ........................ یوفکون (36 : 4) ” انہیں دیکھو تو ان کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے ہو مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیئے گئے ہوں۔ ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ پکے دشمن ہیں ، ان سے بچ کر رہو ، اللہ کی مار ان پر ، یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں “۔

یہ اس طرح ہیں جس طرح مضحکہ خیز حثے ہوتے ہیں۔ انسان معلوم ہی نہیں ہوتے۔ جب یہ خاموش ہوتے ہیں تو کندہ ناتراش نظر آتے ہیں اور جب یہ بولتے ہیں تو ان کے الفاظ ہر قسم کے مفہوم ، احساس ، اثر یا حقیقت سے خالی ہوتے ہیں ، تم ان کی بات سنتے ہو ، یوں نظر آتے ہیں کہ گویا لکڑیاں ہیں جن کو دیوار کے سہارے سے کھڑا کردیا گیا ہے (یعنی یہ بےجان ہیں اور ماسوائے آواز کے ان میں زندگی کی کوئی علامت نہیں) ۔

ایک طرف تو وہ ایسے جامد ، نافہم اور بےروح ہیں اور دوسری طرف سے یہ اسی قدر چوکنے ہیں اور ڈرپوک ہیں اور ہر وقت کانپتے ہی رہتے ہیں اور انہیں ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں راز فاش نہ ہوجائے۔

یحسبون .................... علیھم (36 : 4) ” ہر زور کی آواز یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں “۔ ان کو تو علم ہے کہ وہ منافق ہیں۔ اور ان کے اوپر نفاق کا مہین پردہ پڑا ہوا ہے ، جو چالاکی ، قسموں اور احتیاطوں کی وجہ سے ابھی تک فاش نہیں ہوا۔ ہر وقت وہ سہمے رہتے ہیں کہ یہ پردہ چاک ہی نہ ہوجائے اور راز فاش ہی نہ ہوجائے ۔ تصویر ایسی کھینچی گئی ہے کہ ہر وقت ادھر ادھر دیکھتے رہتے ہیں۔ ہر حرکت ، ہر آواز اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر حرکت ان پر دار ہے ، اور ہر آواز ان کی پکار ہے۔ یہ عجیب تصویر ہے ان کی اگر معاملہ فہم وادراک کا ہو ، تو وہ لکڑی کے بت ہیں۔ کوئی سمجھ ، کوئی روح ، کوئی شعور اور ایمان کا اثر ان پر نہیں ہے۔ اور اگر معاملہ ثابت قدمی اور خوف کا ہو تو وہ اس باریک ٹہنی کی طرح ہیں جو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ جھلکتی رہتی ہے۔ ہر وقت کپکپاتی رہتی ہے۔ اور اپنی ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ وہ رسول اللہ کے دشمن نمبر ایک ہیں۔

ھم العدو فاحذرھم (36 : 4) ” یہ پکے دشمن ہیں ان سے بچ کر رہو “۔ یہ اسلامی محاذ کے اندر گھسے ہوئے خفیہ دشمن ہیں۔ اسلامی صفوں کے اندر ہیں ، اس لئے یہ خارجی دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔

فاحذرھم (36 : 4) ” ان سے بچ کر رہو “۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود حضور اکرم ﷺ کو حکم نہیں دیا گیا کہ ان کو قتل کرو ، ان کو دوسرے انداز سے پکڑنا مطلوب تھا۔ اور اس میں حکمت ، یقین ، رواداری کے ساتھ ان کی سازشوں سے بچنا مطلوب تھا۔ (اس کا ایک نمونہ ابھی آرہا ہے)

قتلھم ................ یوفکون (36 : 4) ” اللہ کی مار ان پر یہ کدھر الٹے پھرائے جارہے ہیں “۔ یہ جہاں بھی جائیں اللہ ہی ان کے ساتھ جنگ کرنے والا ہے۔ اور اللہ جس کے خلاف دعا کرے ، تو یہ حکم تصور ہوتا ہے کہ گویا فیصلہ ہوگیا کہ یہ ختم ہوگئے ، قتل ہوگئے۔ اور یہی ہوا پہلے مدینہ اور پھر جزیرة العرب میں۔

مزید بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی اندرونی حالت کیا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف خفیہ طور پر کیا سازشیں کرتے ہیں اور آپ کے سامنے کس طرح جھوٹ بولتے ہیں ان کی اہم صفات یہ ہیں :