Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Al-Qamar 54:34

54:34
انا ارسلنا عليهم حاصبا الا ال لوط نجيناهم بسحر ٣٤
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّآ ءَالَ لُوطٍۢ ۖ نَّجَّيْنَـٰهُم بِسَحَرٍۢ ٣٤
إِنَّآ
أَرۡسَلۡنَا
عَلَيۡهِمۡ
حَاصِبًا
إِلَّآ
ءَالَ
لُوطٖۖ
نَّجَّيۡنَٰهُم
بِسَحَرٖ
٣٤
Sesungguhnya Kami telah menghantarkan kepada mereka angin ribut yang menghujani mereka dengan batu, kecuali keluarga Nabi Lut, Kami selamatkan mereka (dengan menyuruh mereka keluar dari situ) pada waktu jauh malam,
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 54:34 hingga 54:35

انا ارسلنا ............ من شکر (45:5 3) ” اور ہم نے اس پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی۔ صرف لوط کے گھر والے اس سے محفوظ رہے۔ ان کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال لیا۔ یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اس شخص کو جو شکرگزار ہوتا ہے۔ “

الحاصب وہ ہوا جو پتھروں کو اڑا کر پھینک دیتی ہو اور دوسری جگہ آیا ہے کہ ان پر مٹی کے پتھر پھینکے گئے تھے۔ لفظ حاصب کی آواز ہی ایسی ہے جس سے پتھر پھینکے جانے کی آواز آتی ہے۔ اس میں شدت اور سختی ہے جو اس وقت منظر اور فضا کے مناسب ہے۔ اس عذاب سے صرف لوط (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ بچے۔ ماسوائے ان کی اہلیہ کے اور بچنے والے اس لئے بچے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے اور اللہ شکر کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتا ہے۔ ان کو اللہ عذاب سے نجات دیتا ہے اور وہ خوفناک حادثات کے درمیان سے بھی بچ کر نکل آتے ہیں۔

قرآن نے یہاں تک اس قصے کے دو اطراف بیان کردیئے۔ ان کی طرف سے جھٹلانا اور اللہ کی طرف سے عذاب شدید ، یہ یہاں اصل مقصد تھا۔ اب قصے کے دونوں اطراف کے درمیان کی بعض ضروری تفصیلات۔ قرآن کریم کا یہ بھی ایک خاص انداز بیان ہے۔ اس انداز سے قرآن کریم بعض اشارات دیتا ہے اور تفصیلات یہ ہیں۔