Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nahl 16:101

16:101
واذا بدلنا اية مكان اية والله اعلم بما ينزل قالوا انما انت مفتر بل اكثرهم لا يعلمون ١٠١
وَإِذَا بَدَّلْنَآ ءَايَةًۭ مَّكَانَ ءَايَةٍۢ ۙ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مُفْتَرٍۭ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ١٠١
وَإِذَا
بَدَّلۡنَآ
ءَايَةٗ
مَّكَانَ
ءَايَةٖ
وَٱللَّهُ
أَعۡلَمُ
بِمَا
يُنَزِّلُ
قَالُوٓاْ
إِنَّمَآ
أَنتَ
مُفۡتَرِۭۚ
بَلۡ
أَكۡثَرُهُمۡ
لَا
يَعۡلَمُونَ
١٠١
Dan apabila Kami tukarkan satu ayat (Al-Quran) untuk menggantikan ayat yang lain (yang dimansukhkan), dan Allah memang mengetahui akan apa yang Ia turunkan, - berkatalah mereka (yang kafir): "Sesungguhnya engkau (wahai Muhammad) hanyalah seorang pendusta"; (padahal Nabi Muhammad tidak berdusta) bahkan kebanyakan mereka tidak mengetahui hakikat yang sebenarnya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

مشرکین کو معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب کا فنکشن کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ یہ ایک عالمی سوسائٹی وجود میں لائے یعنی امت مسلمہ اور اس بات سے وہ بیخبر ہیں۔ یہ امت ایسی ہو جو پوری دنیا کی قیادت کرے اور یہ کہ یہ آخری امت ہے۔ آئندہ دنیا میں سب کچھ اس نے کرنا ہے ، آسمانوں سے اب کوئی نئی رسالت نہیں آتنی ہے۔ پھر یہ کہ اللہ جس نے انسان کو پیدا کیا وہی جانتا ہے کہ انسان کی مصلحت اور ضرورت کیا ہے۔ جب کسی حکم کا مقصد پورا ہوجائے اور اس وقتی حکم کی میعاد پوری ہوجائے تو اللہ ایک جدید حکم لے آتا ہے کیونکہ جدید حالات میں اس جدید حکم کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور وہ زیادہ مناسب بھی ہوتا ہے۔ سابقہ وقتی حکم کے مقابلے میں اب یہ حکم دائمی اور ابد الدھر تک قائم رہنے کا اہل ہوتا ہے۔ اللہ ہی سب کچھ جانتا ہے اور آیات الہیہ کی مثال تو ایسی ہے کہ جس طرح مریض کو گھونٹ گھونٹ دوا پلائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ شفایات ہوجاتا ہے۔ اب دوائی کے بجائے اسے معمول کی غذائیں دی جاتی ہیں تاکہ وہ معمول کی زندگی بسر کرے۔

لیکن مشرکین مکہ اس حکمت سے واقف نہ تھے ، اس لئے وہ یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ ایک آیت کے بعد دوسری آیت کیوں آرہی ہے۔ خود حضور کی زندگی میں قوانین کیوں بدل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اس پر محمول کیا کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ اپنی طرف سے آیات بناتے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ تو صادق و امین ہیں اور کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے ، چہ جائیکہ وہ اللہ پر جھوٹ بولیں۔

بل اکثر ھم لا یعلمون (61 : 101) ” حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے “۔