Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nahl 16:106

16:106
من كفر بالله من بعد ايمانه الا من اكره وقلبه مطمين بالايمان ولاكن من شرح بالكفر صدرا فعليهم غضب من الله ولهم عذاب عظيم ١٠٦
مَن كَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ إِيمَـٰنِهِۦٓ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُۥ مُطْمَئِنٌّۢ بِٱلْإِيمَـٰنِ وَلَـٰكِن مَّن شَرَحَ بِٱلْكُفْرِ صَدْرًۭا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ ١٠٦
مَن
كَفَرَ
بِٱللَّهِ
مِنۢ
بَعۡدِ
إِيمَٰنِهِۦٓ
إِلَّا
مَنۡ
أُكۡرِهَ
وَقَلۡبُهُۥ
مُطۡمَئِنُّۢ
بِٱلۡإِيمَٰنِ
وَلَٰكِن
مَّن
شَرَحَ
بِٱلۡكُفۡرِ
صَدۡرٗا
فَعَلَيۡهِمۡ
غَضَبٞ
مِّنَ
ٱللَّهِ
وَلَهُمۡ
عَذَابٌ
عَظِيمٞ
١٠٦
Sesiapa yang kufur kepada Allah sesudah ia beriman (maka baginya kemurkaan dan azab dari Allah), kecuali orang yang dipaksa (melakukan kufur) sedang hatinya tenang tenteram dengan iman; akan tetapi sesiapa yang terbuka hatinya menerima kufur maka atas mereka tertimpa kemurkaan dari Allah, dan mereka pula beroleh azab yang besar.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 16:106 hingga 16:109

خدا کے یہاں حقیقت کا اعتبار کیا جاتاہے، نہ کہ محض ظاہر کا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں انسان کے ساتھ بہت رعایت کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص دل سے خدا کا سچا وفادار ہو مگر سخت مجبوری کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لیے وقتی طور پر کوئی خلافِ ایمان کلمہ کہہ دے تو خدا کے یہاں اس پر اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔ مگر وہ لوگ خدا کے یہاں ناقابلِ معافی ہیں جو اندر سے بدل چکے ہوں۔ جو شیطانی شبہات یا حالات کہ دباؤ سے متاثر ہو کر دل کی رضامندی سے کسی اور راستہ پر چل پڑیں۔

جب آدمی ایمان کے بجائے غیر ایمان کی روش اختیار کرتا ہے تو اس کی وجہ ہمیشہ دنیا پرستی ہوتی ہے۔ وہ دنیوی مفاد کو خطرہ میں دیکھ کر غیر مومنانہ روش پر چل پڑتا ہے۔ اگر وہ آخرت کی قدر وقیمت کو سمجھتا تو دنیا کا مفاد اس کو اتنا حقیر نظر آتا کہ اس کو یہ بات بالکل لغو معلوم ہوتی کہ دنیا کی خاطر وہ آخرت کو چھوڑ دے۔

آخرت کے مقابلہ میں دنیا کے فائدے اگر کسی کے نزدیک اہم ترین بن جائیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ معاملات کو آخرت کے نقطۂ نظر سے سوچ نہیں پاتا۔ وہ دیکھتا اور سنتا ہے مگر دنیا کی طرف جھکاؤ کی وجہ سے چیزوں کا اخروی پہلو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ وہ اسی پہلو کو دیکھ پاتا ہے جو دنیوی مصالح سے تعلق رکھتے ہوں۔ جو لوگ غفلت کے اس مرتبہ کو پہنچ جائیں ان کے حصہ میں ابدی نقصان کے سوا اور کچھ نہیں۔