Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nahl 16:63

16:63
تالله لقد ارسلنا الى امم من قبلك فزين لهم الشيطان اعمالهم فهو وليهم اليوم ولهم عذاب اليم ٦٣
تَٱللَّهِ لَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ أَعْمَـٰلَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ ٦٣
تَٱللَّهِ
لَقَدۡ
أَرۡسَلۡنَآ
إِلَىٰٓ
أُمَمٖ
مِّن
قَبۡلِكَ
فَزَيَّنَ
لَهُمُ
ٱلشَّيۡطَٰنُ
أَعۡمَٰلَهُمۡ
فَهُوَ
وَلِيُّهُمُ
ٱلۡيَوۡمَ
وَلَهُمۡ
عَذَابٌ
أَلِيمٞ
٦٣
Demi Allah! Sesungguhnya kami juga telah mengutus Rasul-rasul kepada umat-umat yang terdahulu daripadamu (wahai Muhammad), lalu Syaitan memperelokkan pada pandangan mereka yang ingkar akan amal-amal mereka yang jahat itu; maka dia lah menjadi pemimpin mereka pada hari ini; dan mereka akan beroleh azab seksa yang tidak terperi sakitnya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 16:63 hingga 16:64

آیت نمبر 63 تا 64

پس اس آخری رسول اور اس آخری کتاب کا کام یہ ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا فیصلہ کر دے جن میں امم سابقہ اور کتب سابقہ کے ماننے والوں کے درمیان اختلافات واقعہ ہوگئے تھے اور وہ طائفہ طائفہ اور فرقہ فرقہ ہوگئے تھے کیونکہ اصل حقیقت تو عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کے اوپر جو شبہات ، شرک اور تشبیہات کے رنگ چڑھ گئے وہ سب باطل ہیں۔ قرآن کریم آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ ان تمام باطل تصورات کو صاف کر کے رکھ دے اور ان لوگوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت ہو جن کے قلوب ایمان و ایقان کے لئے کھلے ہوں اور وہ گوہر ایمان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔

٭٭٭

یہاں قرآن کریم نے اللہ کی الوہیت اور حاکمیت پر وہ دلائل دینے شروع کر دئیے ہیں جو اس کائنات میں بالکل عیاں ہیں۔ پھر ان صفات اور صلاحیتوں کو بیان کیا گیا ہے جو اللہ نے انسان کی ذات کے اندر ودیعت کر رکھی ہیں اور پھر وہ انعامات و احسانات بیان کئے ہیں جو اللہ نے اس انسان پر کئے ہیں ، وہ اس کے اردگرد موجود ہیں اور اللہ کے سوا یہ نعمتیں کوئی اور ذات نہ پیدا کرسکتی ہے ، نہ فراہم کرسکتی ہے۔

اس سے قبل والی آیت میں کتاب الٰہی کے نزول کی بات ہوئی تھی اور یہ اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں سے آخری کتاب ہے جو بھلائی پر مشتمل ہے اور اس میں انسان کی روحانی زندگی کا سامان ہے ، چناچہ اس مناسبت سے یہاں آسمانوں سے بارشیں برسانے کا ذکر کیا گیا جس میں انسانوں کی جسمانی زندگی کا سامان ہے۔