Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nahl 16:80

16:80
والله جعل لكم من بيوتكم سكنا وجعل لكم من جلود الانعام بيوتا تستخفونها يوم ظعنكم ويوم اقامتكم ومن اصوافها واوبارها واشعارها اثاثا ومتاعا الى حين ٨٠
وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنۢ بُيُوتِكُمْ سَكَنًۭا وَجَعَلَ لَكُم مِّن جُلُودِ ٱلْأَنْعَـٰمِ بُيُوتًۭا تَسْتَخِفُّونَهَا يَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَيَوْمَ إِقَامَتِكُمْ ۙ وَمِنْ أَصْوَافِهَا وَأَوْبَارِهَا وَأَشْعَارِهَآ أَثَـٰثًۭا وَمَتَـٰعًا إِلَىٰ حِينٍۢ ٨٠
وَٱللَّهُ
جَعَلَ
لَكُم
مِّنۢ
بُيُوتِكُمۡ
سَكَنٗا
وَجَعَلَ
لَكُم
مِّن
جُلُودِ
ٱلۡأَنۡعَٰمِ
بُيُوتٗا
تَسۡتَخِفُّونَهَا
يَوۡمَ
ظَعۡنِكُمۡ
وَيَوۡمَ
إِقَامَتِكُمۡ
وَمِنۡ
أَصۡوَافِهَا
وَأَوۡبَارِهَا
وَأَشۡعَارِهَآ
أَثَٰثٗا
وَمَتَٰعًا
إِلَىٰ
حِينٖ
٨٠
Dan Allah menjadikan bagi kamu rumah-rumah (yang kamu dirikan itu) tempat tinggal; dan Ia menjadikan bagi kamu dari kulit binatang-binatang ternak: khemah-khemah (tempat berteduh), yang kamu mendapatinya ringan (di bawa ke mana-mana) semasa kamu merantau dan semasa kamu berhenti; dan (Ia juga menjadikan bagi kamu) dari berjenis-jenis bulu binatang-binatang ternak itu, berbagai barang perkakas rumah dan perhiasan, (untuk kamu menggunakannya) hingga ke suatu masa.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 16:79 hingga 16:80

پرندے زمین و آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔ یہ اسی میں اڑتے پھرتے ہیں ، ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ منظر ہم بار بار دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے اس کے اندر جو عجوبہ ہے ، وہ غیر محسوس ہوگیا ہے۔ اس کی طرف انسان کا دل و دماغ تب توجہ کرتا ہے جب وہ جاگنے والا ہو ، اور اس کو شاعرانہ قوت مشاہدہ دی گئی ہو۔ ایک شاعرانہ ظرف نگاہی رکھنے والا شخص تو اس پر ایک نظم اور قصیدہ لکھ سکتا ہے اور وہ بےساختہ اس قدیم ، مالوف اور جدید شاعرانہ منظر کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے۔

یا یمسکھن الا اللہ (61 : 97) ” اللہ کے سوا کس نے انہیں تھام رکھا ہے “۔ یہ کس طرح ، پرندوں کی فطرت ہی ایسے اصولوں پر وضع کی گئی ، اس کے ارد گرد فضائی حالات اللہ نے ایسے بنائے کہ اس میں وہ اڑ سکیں اور زمین پر کسی بھی وقت نہ گریں۔

ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (61 : 97) ” اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ ایک قلب مومن اس کائنات کی عجائبات پر اسی طرح نظر دوڑاتا ہے جس طرح شاعر کسی چیز کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا شعور اور اس کا ضمیر ان مخلوقات کے حسن اور کمال کو محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے احساس کی تعبیر نہایت ہی خوبصورتی سے کرتا ہے۔ ایمان کی شکل میں ، اللہ کی بندگی کی شکل میں اور اللہ کی ثنا اور تسبیح کی شکل میں۔ اہل ایمان میں سے اللہ نے جن لوگوں کو قادر الکلامی دی ہے ، وہ اللہ کی ان تخلیقات میں عجیب و غریب پہلو دیکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ ایسے مومنین کی تخلیقات اس قدر گہری ہوتی ہیں کہ عام شاعر کی اس مقام تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔