Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nisaa' 4:7

4:7
للرجال نصيب مما ترك الوالدان والاقربون وللنساء نصيب مما ترك الوالدان والاقربون مما قل منه او كثر نصيبا مفروضا ٧
لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌۭ مِّمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًۭا مَّفْرُوضًۭا ٧
لِّلرِّجَالِ
نَصِيبٞ
مِّمَّا
تَرَكَ
ٱلۡوَٰلِدَانِ
وَٱلۡأَقۡرَبُونَ
وَلِلنِّسَآءِ
نَصِيبٞ
مِّمَّا
تَرَكَ
ٱلۡوَٰلِدَانِ
وَٱلۡأَقۡرَبُونَ
مِمَّا
قَلَّ
مِنۡهُ
أَوۡ
كَثُرَۚ
نَصِيبٗا
مَّفۡرُوضٗا
٧
Orang-orang lelaki ada bahagian pusaka dari peninggalan ibu bapa dan kerabat, dan orang-orang perempuan pula ada bahagian pusaka dari peninggalan ibu bapa dan kerabat, sama ada sedikit atau banyak dari harta yang ditinggalkan itu; iaitu bahagian yang telah diwajibkan (dan ditentukan oleh Allah).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

(آیت) ”۔ للرجال نصیب مما ترک الوالدن والاقربون وللنسآء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون مما قل منہ اوکثر نصیبا مفروضا “۔ (7)

یہ وہ عام اصول ہے جس کی رو سے اسلام نے آج سے پورے چودہ سو سال قبل عورتوں کو وہ حقوق دیئے جو اس وقت مردوں کو حاصل تھے ۔ یہ فیصلہ اصولی فیصلہ تھا ۔ جس طرح یتیموں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا ‘ جبکہ اس وقت کے معاشرے میں عموما چھوٹوں اور یتیموں کے حقوق مارے جاتے تھے ۔ اور یہ حقوق اس لئے مارے جاتے تھے کہ ایام جاہلیت میں انسانوں کی قدروقیمت کا تعین انسانی لحاظ سے نہیں بلکہ اس کا تعین اس لحاظ سے کیا جاتا تھا کہ پیداواری عمل میں وہ کس قدر کام آتے ہیں اور پھر جنگ میں وہ کس قدر وہ کام آتے ہیں ۔ ان حالات میں اسلام نے ایک ربانی نظام پیش کیا ‘ جس نے سب سے پہلے انسان کو بحیثیت انسان دیکھا ۔ اس لئے کہ انسان کو انسانی حیثیت اس سے کسی حال میں بھی علیحدہ نہیں کی جاسکتی ۔ انسانی حیثیت بنیادی حیثیت ہوتی ہے ۔ اور ایک خاندان کے اندر یا ایک سوسائٹی کے اندر تمام دوسری حیثیات کا لحاظ اس کے بعد آتا ہے ۔

جیسا کہ بعد میں تفصیلات ناظرین کے سامنے آرہی ہیں ‘ اسلام کے قانون میراث میں بعض رشتہ داروں کی موجودگی سے بعض دوسرے وارث محروم ہوجاتے ہیں ۔ وہ رشتہ دار تو ہوتے ہیں لیکن ان کو وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ اس لئے کہ ان کے مقابلے میں زیادہ قریبی رشتہ دار ان سے پہلے ہی حق لے لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو محجوب کہتے ہیں ۔ اس لئے یہاں تقسیم میراث کے وقت ایسے لوگوں کیلئے غیر متعین حق رکھا جاتا ہے ۔ جب وہ تقسیم میراث کے وقت موجود بھی ہوں اور مستحق بھی ہوں ۔ یہ حق ایسے لوگوں کی دلجوئی کیلئے رکھا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ دیکھیں گے کہ مال تقسیم ہو رہا ہے اور وہ محروم ہیں ۔ اس لئے ان کی دلجوئی مطلوب ہے ۔ نیز اس سے خاندانی رشتے دار اور رابطے بھی مضبوط ہوں گے اور دلی محبت میں اضافہ ہوگا ۔ اسی طرح دوسرے یتیموں ، مسکینوں کے بارے میں بھی یہاں مشورہ دیا جاتا ہے کہ تقسیم کنندگان انہیں بھی کچھ ضرور دیں ۔