Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: An-Nur 24:27

24:27
يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوتا غير بيوتكم حتى تستانسوا وتسلموا على اهلها ذالكم خير لكم لعلكم تذكرون ٢٧
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَدْخُلُوا۟ بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا۟ وَتُسَلِّمُوا۟ عَلَىٰٓ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ٢٧
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
لَا
تَدۡخُلُواْ
بُيُوتًا
غَيۡرَ
بُيُوتِكُمۡ
حَتَّىٰ
تَسۡتَأۡنِسُواْ
وَتُسَلِّمُواْ
عَلَىٰٓ
أَهۡلِهَاۚ
ذَٰلِكُمۡ
خَيۡرٞ
لَّكُمۡ
لَعَلَّكُمۡ
تَذَكَّرُونَ
٢٧
Wahai orang-orang yang beriman, janganlah kamu masuk ke dalam mana-mana rumah yang bukan rumah kamu, sehingga kamu lebih dahulu meminta izin serta memberi salam kepada penduduknya; yang demikian adalah lebih baik bagi kamu, supaya kamu beringat (mematuhi cara dan peraturan yang sopan itu).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 24:27 hingga 24:29

اجتماعی زندگی میں اکثر ملاقات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اب ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی بلا اطلاع کسی کے یہاں پہنچے اور اچانک اس کے مکان کے اندر داخل ہوجائے۔ یہ طریقہ دونوں ہی کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔ اس ليے پیشگی اجازت کو ملاقات کے آداب میں شامل کیاگیا۔

اگر ممکن ہو تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے گھر سے روانہ ہونے سے پہلے صاحب ملاقات سے ربط قائم کیا جائے اور اس سے پیشگی طورپر ملاقات کا وقت مقرر کرلیا جائے۔ اور پھر جب آدمی اس کے مکان پر پہنچے تو اندر داخل ہونے سے پہلے اس کی باقاعدہ اجازت لے۔ تمدنی حالات کے لحاظ سے اس اجازت کے مختلف طریقے ہوسکتے ہیں۔ تاہم ہر طریقہ میںاسلامی شائستگی کی شرط موجود رہنا ضروری ہے۔

اسلام اجتماعی زندگی کے تمام معاملات کو اعلیٰ ظرفی کی بنیاد پر قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہی اعلیٰ ظرفی ملاقات کے معاملہ میں بھی مطلوب ہے۔ اگر آپ کسی سے ملنے کے ليے اس کے گھر جائیں، اور صاحب خانہ کسی وجہ سے اس وقت ملاقات سے معذرت کرے تو آپ کو خوش دلی کے ساتھ واپس آجانا چاہیے۔ تاہم وہ اجتماعی مقامات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جہاں اصولاً لوگوں کے ليے داخلہ کی عام اجازت ہوتی ہے۔