Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Ar-Ruum 30:18

30:18
وله الحمد في السماوات والارض وعشيا وحين تظهرون ١٨
وَلَهُ ٱلْحَمْدُ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَعَشِيًّۭا وَحِينَ تُظْهِرُونَ ١٨
وَلَهُ
ٱلۡحَمۡدُ
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
وَعَشِيّٗا
وَحِينَ
تُظۡهِرُونَ
١٨
Serta pujilah Allah yang berhak menerima segala puji (dari sekalian makhlukNya) di langit dan di bumi, dan juga (bertasbihlah kepadaNya serta pujilah Dia) pada waktu petang dan semasa kamu berada pada waktu zuhur.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 30:17 hingga 30:18

تسبیح کا یہ حکم اور حمد سابق فقرات و آیات میں بیان کردہ مشاہد قیامت کے بعد آتا ہے جس میں بتایا گیا کہ اہل ایمان جنت کے ایک مخصوص باغ میں خوش و خرم ہوں گے۔ اور کافر اور جھٹلانے والے ، عذاب اور سزا کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ تو یہ تسبیح دراصل بطور نتیجہ یہاں لائی گئی ہے اور سابقہ مناظر قیامت دراصل اس مطالعہ کائنات کے لئے تمہید تھے کہ یہ وسیع کائنات اور اس کے نشیب و فرار ، نفس انسانی اور اس کی نفسیات و عجائبات اور اللہ کی یہ تخلیق اور اس کے اسرار و رموز یہ سب لایعنی نہیں ہیں۔ ان پر قیامت کے نتائج مرتب ہوں گے۔ پس سابقہ مناظر قیامت اور موجودہ مطالعہ کائنات کے اندر مکمل ربط و مناسبت ہے

یہاں تسبیح اور حمد کے لیے کچھ اوقات بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ شام کے اوقات میں اور صبح کے مناظر میں ، پچھلے پہر اور پہلی پہر میں۔ پھر اس حمد و تسبیح کو آفاق سماوات کے ساتھ بھی جوڑا گیا تاکہ زمان و مکان کے فاصلے مٹا کر اس حمد و تسبیح کو ہمہ گیر بنا دیا جائے اور انسان کا دل ہر وقت اور ہر جگہ اللہ کے ساتھ جڑا رہے۔ وہ اس کائنات کے ڈھانچے ، کر ات سماوی کی گردش اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مظاہر صبح و مساء کے مظاہر کو دیکھ کر انسان ہر لمحہ اللہ کو یاد کرے۔ اس کا دل کھلا رہے ، حساس رہے ، اور اپنے ماحول کے حوالے سے بیدار رہے۔ اپنے بدلتے ہوئے حالات میں ماحول کا مشاہدہ کرتا رہے اور اللہ کی حمد و تسبیح کے ساتھ یہ غور و فکر جاری رہے۔ اور ان تمام امور کو اللہ اور خالق کائنات کی آیات و معجزات سمجھے۔ یہ تمام حالات ، تمام مظاہر ، اور تمام اوقات دراصل ایک معجزہ پروردگار ہیں۔