Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: As-Saaffaat 37:128

37:128
الا عباد الله المخلصين ١٢٨
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ ١٢٨
إِلَّا
عِبَادَ
ٱللَّهِ
ٱلۡمُخۡلَصِينَ
١٢٨
Kecuali hamba-hamba Allah yang dibersihkan dari sebarang syirik (maka mereka akan terselamat, dan mendapat sebaik-baik balasan).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 37:123 hingga 37:132

اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔

وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)

حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔

نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔

حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ

آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے

سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔