Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: As-Sajdah 32:10

32:10
وقالوا ااذا ضللنا في الارض اانا لفي خلق جديد بل هم بلقاء ربهم كافرون ١٠
وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا ضَلَلْنَا فِى ٱلْأَرْضِ أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍۢ جَدِيدٍۭ ۚ بَلْ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ كَـٰفِرُونَ ١٠
وَقَالُوٓاْ
أَءِذَا
ضَلَلۡنَا
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
أَءِنَّا
لَفِي
خَلۡقٖ
جَدِيدِۭۚ
بَلۡ
هُم
بِلِقَآءِ
رَبِّهِمۡ
كَٰفِرُونَ
١٠
Dan mereka (yang kafir) itu berkata: "Adakah apabila kami telah hilang lenyap dalam tanah, kami pula akan hidup semula dalam bentuk kejadian yang baharu? Betulkah demikian? " (Mereka bukan sahaja tidak percaya tentang hidup semula) bahkan mereka tidak percaya tentang pertemuan dengan Tuhannya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

وقالوا ءاذا ضللنا ۔۔۔۔۔ ربھم کفرون (10)

یہ لوگ کہتے تھے کہ مرنے اور دفن کرنے کے بعد اور اجسام کے مٹی ہوکر مٹی میں رل مل جانے کے بعد یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہمیں از سر نو پیدا کردیا جائے جبکہ ہمارے ذرات دوسرے ذرات میں مل کر ناپید اور گم ہوجائیں گے۔ جب انسان کی تخلیق اول پر غور کیا جائے تو اللہ کے لیے اس کا دوبارہ تحقق کرنا کوئی عجیب و غریب چیز نہیں ہے۔ آغاز میں اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا اور یہ مٹی اس زمین سے تھی جس میں وہ اپنی ذات کو گم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری پیدائش بھی تو پہلی پیدائش ہی کی طرح ہے۔ اس میں کوئی عجیب و غریب بات تو نظر نہیں آتی۔ اصل بات یہ ہے۔

بل ھم بلقای ربھم کفرون (32: 10) ” کہ یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں “۔ اس وجہ سے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ کے سامنے حاضری کا یہ انکار ہی ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ اس قسم کے واضح معاملے میں اپنے اوپر شک طاری کرتے ہیں ، یہ معاملہ ایسا ہے جو ایک بار ہوچکا ہے اور اس قسم کے واقعات و معجزات ہر لحظ ہوتے رہتے ہیں۔ تاکید ان کی وفات اور اللہ کی طرف لوٹ آنے کی تاکید کی جاتی ہے اور دلیل وہی ہے جو اس سے پہلے دی گئی ہے۔