Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Asy-Syu'araa' 26:150

26:150
فاتقوا الله واطيعون ١٥٠
فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ ١٥٠
فَٱتَّقُواْ
ٱللَّهَ
وَأَطِيعُونِ
١٥٠
"Oleh itu, takutilah kamu akan (kemurkaan) Allah, dan taatlah kepadaku;
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 26:141 hingga 26:152

عاد کے بعد دوسری قوم جس کو عروج ملا وہ ثمود کی قوم تھی (الاعراف، 7:74 )۔اس قوم کی آبادیاں خیبر اور تبوک کے درمیان اس علاقہ میں تھیں جس کو الحجر کہاجاتا ہے۔ اس قوم کو بھی زبردست خوش حالی اور غلبہ حاصل ہوا۔مگر اس کے افراد کی بھی ساری توجہ دوبارہ صرف مادی ترقی کی طرف لگ گئی۔ پہاڑوں کو کاٹ کر بڑے بڑے مکان بنانے کا فن غالباً اسی قوم نے شروع کیا۔ جس کی زیادہ ترقی یافتہ صورت اجنتا اور ایلورا کے غاروں کی شکل میں پائی جاتی ہے۔

ہر شخص اور ہر گروہ جس کو دنیا کا سازوسامان ملتا ہے وہ اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ یہ سب اس کا حق ہے اور وہ جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ مگر یہ سب سے بڑی بھول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا اسباب صرف امتحان کی مدت تک کے ليے ہے۔ اس کے بعد وہ اس طرح چھین لیا جائے گا کہ آدمی کے پاس ان میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔

حد سے گزرنے والا (مسرف) وہ شخص ہے جس کے پاس دولت آئے تو وہ شکر کے بجائے فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ وہ اقتدار پائے تو تواضع کے بجائے گھمنڈ کرنے لگے۔ اس کو عہدہ دیا جائے تو وہ اس کو خدمت کے بجائے اپنانام بلند کرنے کے ليے استعمال کرے۔ مواقع کے یہی غلط استعمالات ہیں جو معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ قوم ثمود کے بڑے لوگ اسی قسم کے اسراف میں مبتلا تھے۔ اور ان کے عوام ان کی پیروی کررہے تھے ۔ پیغمبر نے انھیں متنبہ کیا کہ یہ لوگ جن کو تم بڑا سمجھتے ہو وہ تو خود بے راہ ہیں پھر وہ تم کو کیسے راستہ دکھائیں گے۔