Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Asy-Syu'araa' 26:164

26:164
وما اسالكم عليه من اجر ان اجري الا على رب العالمين ١٦٤
وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٦٤
وَمَآ
أَسۡـَٔلُكُمۡ
عَلَيۡهِ
مِنۡ
أَجۡرٍۖ
إِنۡ
أَجۡرِيَ
إِلَّا
عَلَىٰ
رَبِّ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٦٤
"Dan aku tidak meminta kepada kamu sebarang upah mengenai apa yang aku sampaikan (dari Tuhanku); balasanku hanyalah terserah kepada Allah Tuhan sekalian alam.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 26:160 hingga 26:166

حضرت لو ط جس قوم میں آئے وہ شہوت پرستی میں حد کو پار کر گئی تھی۔ ان کے ليے ان کی بیویاں کافی نہ تھیں ۔ وہ نوجوان لڑکوں سے مباشرت کا فعل کرنے لگے تھے۔ حضرت لوط نے انھیں خدا پرستی اور تقویٰ کی تعلیم دی اور برے افعال سے انھیں منع کیا۔

حضرت لوط ان کے درمیان ایک ایسے داعی کی حیثیت سے اٹھے جس کی شخصیت جھوٹ اور فضول گوئی سے صد فی صد پاک تھی۔ قوم سے مادی مفاد کا جھگڑا چھیڑنے سے بھی انھوںنے مکمل پرہیز کیا۔ یہ واقعات یہ ثابت کرنے کے ليے کافی تھے کہ حضرت لوط جو کچھ کہہ رہے ہیں پوری سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہے ہیں۔ مگر چوں کہ آپ کی بات قوم کی روش کے خلاف تھی وہ آپ کي دشمن ہوگئي۔ حضرت لوط کی بات کو وزن دینے کے ليے ضروری تھا کہ لوگوں کے اندر خداکا خوف ہو۔ مگر یہی وہ چیز تھی جس سے ان کی قوم کے لوگ پوری طرح خالی ہوچکے تھے۔ پھر وہ پیغمبر کی بات پر دھیان دیتے تو کس طرح دیتے۔