Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Asy-Syu'araa' 26:33

26:33
ونزع يده فاذا هي بيضاء للناظرين ٣٣
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّـٰظِرِينَ ٣٣
وَنَزَعَ
يَدَهُۥ
فَإِذَا
هِيَ
بَيۡضَآءُ
لِلنَّٰظِرِينَ
٣٣
Dan ia mengeluarkan tangannya, maka tiba-tiba tangannya menjadi putih (bersinar-sinar) bagi orang-orang yang melihatnya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 26:32 hingga 26:33

فالقی عصاہ ……للنظرین (32)

انداز بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عصا فی الحقیقت سانپ بن گیا تھا۔ زندہ ہوگیا اور زمین پر رینگنے لگا اور جب انہوں نے اپنا ہاتھ بغل سے نکالا تو وہ فی الواقعہ سفید تھا اور یہ مفہوم (فاذا ھی ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ محض نظر بندی یا تخیل نہ تھا جس طرح جادو گر کرتے ہیں اور چیزیں اپنی حقیقت پر ہی رہتی ہیں۔ محض لوگوں کے جو اس کے اندر خلل آجاتا ہے۔ اشیاء کی حقیقت نہیں بدلتی۔

زندگی کا عظیم معجزہ ، جو اس کرہ ارض پر رواں ہے اور یہ معجزہ وقت ہوتا رہتا ہے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ وہ اس کے ساتھ مانوس ہوگ ئے ہیں اور یہ معجزہ بار بار اس زمین پر دہرایا جاتا ہے یا لوگ زندگی کے ذریعہ رونما ہونے والی اس تبدیلی کا مشاہدہ نہیں کرتے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے یہ دونوں معجزے رکھے تو یہ ایک ایسا امر تھا کہ پہلی نظر میں اس نے لوگوں کو ہلاک کر رکھ دیا۔

فرعون نے اب محسوس کیا کہ یہ معجزہ تو بہرحال بہت بڑا ہے اور اپنے اندر بڑی قوت رکھتا ہے۔ چناچہ اس نے فوراً اس معجزے کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اپنے دل میں تو وہ خود جانتا تھا کہ اس کا موقف غلط ہے۔ یہ بھی ممکن تھا اس کے حاشیہ نشین چاپلوسی کرتے ہوئے حقیقی صورتحال نہ بتائیں۔ اس لئے یہ شخص حضرت موسیٰ اور قوم موسیٰ کی طرف سے سامنے آنے والے خطرے کو خود حاشیہ نشینوں کے سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ ان معجزات کے اثرات کو کم کرسکے۔