Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Asy-Syu'araa' 26:62

26:62
قال كلا ان معي ربي سيهدين ٦٢
قَالَ كَلَّآ ۖ إِنَّ مَعِىَ رَبِّى سَيَهْدِينِ ٦٢
قَالَ
كـَلَّآۖ
إِنَّ
مَعِيَ
رَبِّي
سَيَهۡدِينِ
٦٢
Nabi Musa menjawab: "Tidak! Jangan fikir (akan berlaku yang demikian)! Sesungguhnya aku sentiasa disertai oleh Tuhanku (dengan pemuliharaan dan pertolonganNya), Ia akan menunjuk jalan kepadaku".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 26:60 hingga 26:68

فرعون بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچ گیا جہاں بنی اسرائیل کے آگے سمندر تھا اور پیچھے فرعون اور اس کا لشکر۔ بنی اسرائیل اس نازک صورت حال کو دیکھ کر گھبرا اٹھے۔ بائبل کے بیان کے مطابق وہ موسیٰ سے کہنے لگے ’’کیا مصر میں قبریں نہ تھیں کہ تم ہم کو وہاں سے مرنے کے ليے بیابان میں لے آیا ہے‘‘۔

مگر حضرت موسیٰ کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضرت موسیٰ نے اپنا عصا سمندر کے پانی پر مارا۔ پانی بیچ سے پھٹ گیا۔ دونوں طرف اونچی دیواروں کی مانند پانی کھڑا ہوگیا۔ اور درمیان میں خشک راستہ نکل آیا۔ بنی اسرائیل اس راستہ سے پار ہو کر اگلے کنارہ پر پہنچ گئے۔

یہ منظر دیکھ کر فرعون نے سمجھا کہ وہ بھی اس کھلے ہوئے راستہ سے پار ہوسکتا ہے۔ اس کو معلوم نہ تھا کہ یہ راستہ نہیں ہے بلکہ خدا کا حکم ہے۔ فرعون اپنے پورے لشکر کے ساتھ اس کے اندر داخل ہوگیا۔ جیسے ہی وہ لوگ بیچ میں پہنچے خدا کے حکم سے سمندر کا کھڑا ہوا پانی دونوں طرف سے مل کر برابر ہوگیا۔ فرعون اپنے تمام لشکر کے ساتھ دفعۃً غرق ہوگیا۔ ایک ہی نقشہ میںایک گروہ کے ليے نجات چھپی ہوئی تھی اور دوسرے گروہ کے ليے ہلاکت۔