Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: At-Tahriim 66:6

66:6
يا ايها الذين امنوا قوا انفسكم واهليكم نارا وقودها الناس والحجارة عليها ملايكة غلاظ شداد لا يعصون الله ما امرهم ويفعلون ما يومرون ٦
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًۭا وَقُودُهَا ٱلنَّاسُ وَٱلْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَـٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌۭ شِدَادٌۭ لَّا يَعْصُونَ ٱللَّهَ مَآ أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ٦
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
قُوٓاْ
أَنفُسَكُمۡ
وَأَهۡلِيكُمۡ
نَارٗا
وَقُودُهَا
ٱلنَّاسُ
وَٱلۡحِجَارَةُ
عَلَيۡهَا
مَلَٰٓئِكَةٌ
غِلَاظٞ
شِدَادٞ
لَّا
يَعۡصُونَ
ٱللَّهَ
مَآ
أَمَرَهُمۡ
وَيَفۡعَلُونَ
مَا
يُؤۡمَرُونَ
٦
Wahai orang-orang yang beriman! Peliharalah diri kamu dan keluarga kamu dari neraka yang bahan-bahan bakarannya: manusia dan batu (berhala); neraka itu dijaga dan dikawal oleh malaikat-malaikat yang keras kasar (layanannya); mereka tidak menderhaka kepada Allah dalam segala yang diperintahkanNya kepada mereka, dan mereka pula tetap melakukan segala yang diperintahkan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

اس واقعہ کی روشنی میں ، جس کے سبب مسلمانوں کی زندگی پر گہری اثرات مرتب ہوگئے تھے ، اب قرآن کریم مسلمانوں کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل اولاد کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاﺅ۔ چناچہ قیامت کا ایک نہایت ہی موثر منظر بھی ان کے سامنے پیش کیا جاتا کہ وہاں کفار کی حالت کیا ہوگی۔ جس طرح اس واقعہ میں زواج کو دعوت دی تھی کہ توبہ کرو اسی طرح یہاں اہل ایمان کی دعوت دی جاتی ہے کہ توبہ کرو اور توبہ کرنے والوں کے لئے اللہ نے جو باغات تیار کر رکھے ہیں وہ بھی بتادیئے جاتے ہیں۔ اور جھلک دکھادی جاتی ہے۔ اور نبی ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو۔ یہ ہے اس سورت کا دوسرا پیراگراف :

یایھا الذین ........................ وبئس المصیر

اپنے نفس اور اپنے اہل و عیال کے بارے میں مومن پر عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ قیامت کے دن کی آگ موجود ہے۔ اور اس نے اس سے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو بچانا ہے۔ یہ ایسی دہکتی ہوئی آگے ہے۔

وقودھا .................... والحجارة (66 : 6) ” جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے “۔ لوگ اس میں اس طرح ہوں گے جس طرح پتھر پڑے ہوتے ہیں ، سنگ راہ کی طرح کوئی ان کی طرف توجہ نہ کرے گا۔ کس قدر سخت آگ ہوگی کہ اس میں پتھر جلیں گے اور کس قدر سخت عذاب ہوگا اور اہل جہنم کس قدر بےوقعت ہوں گے۔ جہنم کا سب ماحول نہایت شدید اور خوفناک ہوگا۔

علیھا ................ شداد (66 : 6) ” جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے ہوں گے “۔ ان کا مزاج اس عذاب کی سختی کی طرح سخت ہوگا۔

لا یعصون .................... یومرون (66 : 6) ” جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں “۔ ان کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہیں ، اور ان کی خصوصیت یہ ہے کہ جو بھی حکم ان کو دیا جاتا ہے وہ اسے کر گزرتے ہیں ، اور وہ اپنی اس قوت اور مضبوطی کی وجہ سے اس آگ پر متعین ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ اس آگ سے اپنے نفس اور دین کی بجائے اور قبل اس کے فرصت کی گھڑیاں ختم ہوں وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال اور آگ کے درمیان پردے حائل کردے۔