Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: At-Taubah 9:85

9:85
ولا تعجبك اموالهم واولادهم انما يريد الله ان يعذبهم بها في الدنيا وتزهق انفسهم وهم كافرون ٨٥
وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَٰلُهُمْ وَأَوْلَـٰدُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِى ٱلدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَـٰفِرُونَ ٨٥
وَلَا
تُعۡجِبۡكَ
أَمۡوَٰلُهُمۡ
وَأَوۡلَٰدُهُمۡۚ
إِنَّمَا
يُرِيدُ
ٱللَّهُ
أَن
يُعَذِّبَهُم
بِهَا
فِي
ٱلدُّنۡيَا
وَتَزۡهَقَ
أَنفُسُهُمۡ
وَهُمۡ
كَٰفِرُونَ
٨٥
Dan janganlah engkau tertarik hati kepada harta benda dan anak-anak mereka, (kerana) sesungguhnya Allah hanya hendak menyeksa mereka dengannya di dunia, dan hendak menjadikan nyawa mereka tercabut sedang mereka dalam keadaan kafir (untuk mendapat azab akhirat pula).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

تحریک اقامت دین کے لیے یہ ہمہ گیر ہدایت ہے کہ کسی کے مال و دولت کی وجہ سے اسے اعزاز نہ دیا جائے۔ نہ دل اور شعور میں ایسے لوگوں سے کوئی تاثر لیا جائے۔ یہ مال خود ان کے لیے وبال جان ہوں گے۔ کیونکہ اگر کوئی ان کے ظاہری مال سے متاثر ہوگا تو یہ بھی ان کے لیے اکرام ہوگا۔ دل کے اندر بھی ایسے لوگوں کی تکریم کا شعور نہ آنے پائے۔ ان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے۔