Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
40:33
يوم تولون مدبرين ما لكم من الله من عاصم ومن يضلل الله فما له من هاد ٣٣
يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَكُم مِّنَ ٱللَّهِ مِنْ عَاصِمٍۢ ۗ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍۢ ٣٣
يَوۡمَ
تُوَلُّونَ
مُدۡبِرِينَ
مَا
لَكُم
مِّنَ
ٱللَّهِ
مِنۡ
عَاصِمٖۗ
وَمَن
يُضۡلِلِ
ٱللَّهُ
فَمَا
لَهُۥ
مِنۡ
هَادٖ
٣٣
"(Iaitu) hari kamu berpaling undur melarikan diri; padahal semasa itu tidak ada sesiapapun yang dapat menyelamatkan kamu dari azab Allah. Dan (ingatlah) sesiapa yang disesatkan Allah (disebabkan pilihannya yang salah), maka tiada sesiapapun yang dapat memberi hidayah petunjuk kepadanya.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 40:30 hingga 40:33

فرعون نے حضرت موسیٰ کو دنیاکی سزا سے ڈرایا تھا، اس کے جواب میں رَجُل مومن نے فرعون کو آخرت کی سزا سے ڈرایا۔ حق کے داعی کا طریقہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی فکر کرتے ہیں، داعی آخرت کےلیے فکر مند ہوتا ہے۔ لوگ دنیا کی اصطلاحوں میں بولتے ہیں، داعی آخرت کی اصطلاحوں میں کلام کرتاہے۔ لوگ دنیا کے مسائل کو سب سے زیادہ قابل ذکر سمجھتے ہیں، داعی کے نزدیک سب سے زیادہ قابل ذکر مسئلہ وہ ہوتا ہے جس کا تعلق آخرت سے ہو۔