Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Maryam 19:4

19:4
قال رب اني وهن العظم مني واشتعل الراس شيبا ولم اكن بدعايك رب شقيا ٤
قَالَ رَبِّ إِنِّى وَهَنَ ٱلْعَظْمُ مِنِّى وَٱشْتَعَلَ ٱلرَّأْسُ شَيْبًۭا وَلَمْ أَكُنۢ بِدُعَآئِكَ رَبِّ شَقِيًّۭا ٤
قَالَ
رَبِّ
إِنِّي
وَهَنَ
ٱلۡعَظۡمُ
مِنِّي
وَٱشۡتَعَلَ
ٱلرَّأۡسُ
شَيۡبٗا
وَلَمۡ
أَكُنۢ
بِدُعَآئِكَ
رَبِّ
شَقِيّٗا
٤
Ia merayu dengan berkata: Wahai Tuhanku! Sesungguhnya telah lemahlah tulang -tulangku, dan telah putih melepaklah uban kepalaku; dan aku - wahai Tuhanku - tidak pernah merasa hampa dengan doa permohonanku kepadaMu.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 19:4 hingga 19:6

ولم اکن بدعاءک رب شقیاً (91 : 3) ” اور اے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں ہوا۔ “ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں رب تعالیٰ کی یہ دعادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے دعا کی ہے رب تعالیٰ نے منظور فرمائی ہے۔ جب وہ اپنے زمانہ جوانی اور قوت میں دعا میں نامراد نہیں رہے تو اب حالت ضعیفی میں تو وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ انہیں نامراد نہ کرے اور ان کی دعا کو قبول کرلے۔

یہ تھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اپنے رب کے جناب میں ، نہایت ہی خفیہ انداز میں اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ ، الفاظ ، عانی ، ماحول اور اثرات پر اعتبار سے اس میں نرمی پائی جاتی ہے ، اور منظر پر نہایت ہی ادب اور شائستگی چھائی ہوتی ہے۔

اب جواب دعاء ملاحظہ ہو اور اس موقعہ پر مکالمات :۔