Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Maryam 19:8

19:8
قال رب انى يكون لي غلام وكانت امراتي عاقرا وقد بلغت من الكبر عتيا ٨
قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى غُلَـٰمٌۭ وَكَانَتِ ٱمْرَأَتِى عَاقِرًۭا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ ٱلْكِبَرِ عِتِيًّۭا ٨
قَالَ
رَبِّ
أَنَّىٰ
يَكُونُ
لِي
غُلَٰمٞ
وَكَانَتِ
ٱمۡرَأَتِي
عَاقِرٗا
وَقَدۡ
بَلَغۡتُ
مِنَ
ٱلۡكِبَرِ
عِتِيّٗا
٨
Nabi Zakaria bertanya: "Wahai Tuhanku! Bagaimanakah caranya aku akan beroleh seorang anak, sedang isteriku adalah seorang yang mandul dan aku sendiri pula telah sampai had umur yang setua-tuanya?"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

قال رب انی یکون لی غلم و کانت امراتی عاقراً وقدبلغت من الکبر عتیاً (91 : 8) ” عرض کیا ، پروردگار ! بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا ، جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں۔ “ چونکہ ان کو ایک عملی صورتحال سے دوچار ہنا پڑا۔ پھر اللہ کا وعدہ بھی ہے اور ٹال ہے۔ ان کو پورا پورا یقین ہے کہ یہ عمل ہونے والا ہے لیکن وہ اس کی کیفیت معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یہ وعدہ کس طرح حقیقت کا روپ اختیار کرے گا تاکہ ان کا دل مطمئن ہو۔ یہ ایک قدرتی اور طبیعی نفسیاتی حالت ہوتی ہے۔ حضرت زکریا نبی صالح ہیں مگر ایک بشر ہیں اور ایک واقعیت پسند انسان۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ واقعی حقیقی صورت حالات کو اللہ کس طرح بدل دے گا ؟

اللہ کی ہاں سے اس کا بھی جواب آجاتا ہے۔ اے بندے یہ کام کوئی مشکل نہیں ہے۔ ذرا اپنے نفس کو تو دیکھو کہ تم کیسے وجود میں آگئے جبکہ تم سرے سے تھے ہی نہیں۔ ہر ذات ذات کی یہی مثال ہے۔ اس کائنات کی ہر زندہ چیز نہ تھی اور ہوگئی۔