Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
30:11
الله يبدا الخلق ثم يعيده ثم اليه ترجعون ١١
ٱللَّهُ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ١١
ٱللَّهُ
يَبۡدَؤُاْ
ٱلۡخَلۡقَ
ثُمَّ
يُعِيدُهُۥ
ثُمَّ
إِلَيۡهِ
تُرۡجَعُونَ
١١
Allah memulakan kejadian sekalian makhluk, kemudian Ia mengembalikannya (hidup semula pada hari kiamat), kemudian kepadaNyalah kamu akan dikembalikan (untuk menerima balasan).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 30:11 hingga 30:16
اعمال کے مطابق فیصلے ٭٭

فرمان باری ہے کہ ” سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فنا کرکے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو “۔

وہاں وہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہو جائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لیے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ ان کے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے اور صاف کہدیں گے کہ ہم میں ان میں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہو جائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو «علیین» میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ «سجین» میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے۔

پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ ” نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے “۔

صفحہ نمبر6768