Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yaa siin 36:75

36:75
لا يستطيعون نصرهم وهم لهم جند محضرون ٧٥
لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَهُمْ وَهُمْ لَهُمْ جُندٌۭ مُّحْضَرُونَ ٧٥
لَا
يَسۡتَطِيعُونَ
نَصۡرَهُمۡ
وَهُمۡ
لَهُمۡ
جُندٞ
مُّحۡضَرُونَ
٧٥
Benda-benda yang mereka sembah itu tidak dapat sama sekali menolong mereka, sedang benda-benda itu sendiri menjadi tentera yang akan dibawa hadir (pada hari kiamat, untuk memberi azab seksa) kepada mereka.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

وھم لھم جند محضرون (36: 75) ” وہ اپنے الہوں کے لیے حاضر باش فوجدار تھے “۔ یہ اب کی سوچ اور فکر کی انتہائی کمزوری تھی۔ آج بھی لوگوں کی اکثریت اسی سوچ میں مبتلا ہے۔ اور صرف شکل و صورت کے اعتبار سے ہی اختلاف ہے۔ اصل سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آج جو لوگ بڑے بڑے سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کا الہہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ازمنۃ سابقہ کے بتوں کے پجاریوں سے کہیں دور نہیں ہیں۔ دراصل یہ لوگ ان بتوں کے فوجدار ہیں۔ یہ لوگ ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کو پوجتے بھی ہیں۔ اور ان کی حمایت و مدافعت بھی کرتے ہیں۔

بت پرستی بہرحال بت پرستی ہے۔ اس کی شکل و صورت مختلف ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ ہر دور میں موجود ہوتی ہے۔ اور جب بھی عقیدہ توحید میں اضطراب پیدا ہوتا ہے بت پرستی کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوجاتی ہے اور اس کی جگہ شرک اور جاہلیت لے لیتی ہے۔ انسانوں کی فلاح اور نجات صرف توحید خالص میں ہے جس کے اندر صرف اللہ ہی کو الٰہ سمجھا جائے۔ صرف اس کی بندگی کی جائے۔ اور صرف اسی پر بھروسہ کیا جائے اور اطاعت اور تعظیم بھی اسی کی کی جائے۔