Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yunus 10:12

10:12
واذا مس الانسان الضر دعانا لجنبه او قاعدا او قايما فلما كشفنا عنه ضره مر كان لم يدعنا الى ضر مسه كذالك زين للمسرفين ما كانوا يعملون ١٢
وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَـٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًۭا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ إِلَىٰ ضُرٍّۢ مَّسَّهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ ١٢
وَإِذَا
مَسَّ
ٱلۡإِنسَٰنَ
ٱلضُّرُّ
دَعَانَا
لِجَنۢبِهِۦٓ
أَوۡ
قَاعِدًا
أَوۡ
قَآئِمٗا
فَلَمَّا
كَشَفۡنَا
عَنۡهُ
ضُرَّهُۥ
مَرَّ
كَأَن
لَّمۡ
يَدۡعُنَآ
إِلَىٰ
ضُرّٖ
مَّسَّهُۥۚ
كَذَٰلِكَ
زُيِّنَ
لِلۡمُسۡرِفِينَ
مَا
كَانُواْ
يَعۡمَلُونَ
١٢
Dan apabila seseorang manusia ditimpa kesusahan, merayulah ia ditimpa Kami (dalam segala keadaan), sama ada ia sedang berbaring atau duduk ataupun berdiri; dan manakala Kami hapuskan kesusahan itu daripadanya, ia terus membawa cara lamanya seolah-olah dia tidak pernah merayu kepada Kami memohon hapuskan sebarang kesusahan yang menimpanya (sebagaimana ia memandang eloknya bawaan itu) demikianlah diperelokkan pada pandangan orang-orang yang melampau apa yang mereka lakukan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

واذا مس الانسان الضر اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ الضر سے مراد ہے سختی ‘ مصیبت۔

دعانا لجنبہ او قاعدًا او قائمًا تو وہ (نجات و خلاص کیلئے) ہم کو پکارتا ہے پہلو کے بل (یعنی لیٹ کر) یا بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر۔ یعنی مصیبت دور ہونے کی ہر حالت میں فوراً ہم سے دعا کرتا ہے لیٹے لیٹے ‘ بیٹھے بیٹھے ‘ کھڑے کھڑے۔

فلما کشفنا عنہ ضرہ مر پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں ‘ کھول دیتے ہیں تو وہ اپنے سابق طریقے پر قائم رہتا ہے ‘ کفر کرتا رہتا ہے ‘ ناشکری کرتا ہے۔

کان لم یدعنا معلوم ہوتا ہے کہ (مصیبت اور دکھ کی حالت میں) اس نے ہم سے دعا ہی نہیں کی تھی ‘ ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔

الی ضر مسہ اس مصیبت کو دور کرنے کیلئے جو اس کو پہنچی تھی۔

کذلک زین للمسرفین ما کانوا یعملون۔ ان حد سے گذرنے والوں کو ان کے اعمال اسی طرح مستحسن معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی خواہشات نفس میں انہماک اور ذکر و عبادت سے اعراض کو ان کی نظر میں محبوب بنا دیا جاتا ہے۔