Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yunus 10:15

10:15
واذا تتلى عليهم اياتنا بينات قال الذين لا يرجون لقاءنا ايت بقران غير هاذا او بدله قل ما يكون لي ان ابدله من تلقاء نفسي ان اتبع الا ما يوحى الي اني اخاف ان عصيت ربي عذاب يوم عظيم ١٥
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَـٰتٍۢ ۙ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٍ غَيْرِ هَـٰذَآ أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِىٓ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ١٥
وَإِذَا
تُتۡلَىٰ
عَلَيۡهِمۡ
ءَايَاتُنَا
بَيِّنَٰتٖ
قَالَ
ٱلَّذِينَ
لَا
يَرۡجُونَ
لِقَآءَنَا
ٱئۡتِ
بِقُرۡءَانٍ
غَيۡرِ
هَٰذَآ
أَوۡ
بَدِّلۡهُۚ
قُلۡ
مَا
يَكُونُ
لِيٓ
أَنۡ
أُبَدِّلَهُۥ
مِن
تِلۡقَآيِٕ
نَفۡسِيٓۖ
إِنۡ
أَتَّبِعُ
إِلَّا
مَا
يُوحَىٰٓ
إِلَيَّۖ
إِنِّيٓ
أَخَافُ
إِنۡ
عَصَيۡتُ
رَبِّي
عَذَابَ
يَوۡمٍ
عَظِيمٖ
١٥
Dan apabila dibacakan kepada mereka ayat-ayat Kami yang jelas nyata, berkatalah orang-orang yang tidak menaruh ingatan menemui Kami (untuk menerima balasan): "Bawalah Quran yang lain daripada ini atau tukarkanlah dia ". Katakanlah (wahai Muhammad): "Aku tidak berhak menukarkannya dengan kemahuanku sendiri, aku hanya tetap menurut apa yang diwahyukan kepadaku sahaja. Sesungguhnya aku takut, - jika aku menderhaka kepada Tuhanku, - akan azab hari yang besar (soal jawabnya)".
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 10:15 hingga 10:17

مکہ کے قریش خدااور رسول کو مانتے تھے۔ وہ اپنے کو ملّت ابراہیمی کا پیرو کہتے تھے۔ حتی کہ اسلام کی بہت سی دینی اصطلاحیں مثلاً صلاۃ، صوم، زکوٰۃ، حج وغیرہ وہی ہیں جو پہلے سے ان کے یہاں رائج تھیں۔ اس کے باوجود کیوں انھوں نے کہا کہ دوسرا قرآن لاؤ یا اس قرآن میں کچھ ترمیم کردو تب ہم اس کو مانیں گے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن میں خدا کے خالص دین کا اعلان تھا۔ جب کہ قریش خدا کے دین کے نام پر ایک ملاوٹی دین کو اختیار كيے ہوئے تھے۔

قرآن کی توحید سے ان کے مشرکانہ عقیدۂ خدا پر زد پڑتی تھی۔ قرآن کے تصور عبادت کی روشنی میں ان کی عبادتیں محض کھیل تماشا معلوم ہوتی تھیں۔ وہ پیغمبر کو اپنے قومی فخر کا نشان بنائے ہوئے تھے اور قرآن اُن سے ایک ایسے پیغمبر کو ماننے کا مطالبہ کررہا تھا جو ان کی عملی زندگی میں رہنما کا درجہ حاصل کرلے۔ انھوں نے کعبہ کی خدمت کو اپنی دین داری کا سب سے بڑا ثبوت سمجھ رکھا تھا جب کہ قرآن نے بتایا کہ دین داری یہ ہے کہ آدمی خدا سے ڈرے اور جو کچھ کرے آخرت کو سامنے رکھ کر کرے۔

آدمی چند الفاظ بول کر حق کو نظر انداز کردیتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دل میں ’’کھٹکا‘‘ نہیں ہوتا۔ اگر آدمی کے دل میں یہ کھٹکا لگاہوا ہو کہ وہ اپنے قول وفعل کے لیے خدا کے یہاں جواب دہ ہے تو وہ فوراً سنجیدہ ہوجائے گا۔ اور جو شخص سنجیدہ ہو وہ معاملہ کو حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھے گا، وہ سرسری طورپر اس کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔