Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yunus 10:35

10:35
قل هل من شركايكم من يهدي الى الحق قل الله يهدي للحق افمن يهدي الى الحق احق ان يتبع امن لا يهدي الا ان يهدى فما لكم كيف تحكمون ٣٥
قُلْ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ ۚ قُلِ ٱللَّهُ يَهْدِى لِلْحَقِّ ۗ أَفَمَن يَهْدِىٓ إِلَى ٱلْحَقِّ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يَهِدِّىٓ إِلَّآ أَن يُهْدَىٰ ۖ فَمَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ ٣٥
قُلۡ
هَلۡ
مِن
شُرَكَآئِكُم
مَّن
يَهۡدِيٓ
إِلَى
ٱلۡحَقِّۚ
قُلِ
ٱللَّهُ
يَهۡدِي
لِلۡحَقِّۗ
أَفَمَن
يَهۡدِيٓ
إِلَى
ٱلۡحَقِّ
أَحَقُّ
أَن
يُتَّبَعَ
أَمَّن
لَّا
يَهِدِّيٓ
إِلَّآ
أَن
يُهۡدَىٰۖ
فَمَا
لَكُمۡ
كَيۡفَ
تَحۡكُمُونَ
٣٥
Bertanyalah (wahai Muhammad): "Adakah di antara makhluk-makhluk: yang kamu sekutukan dengan Tuhan itu, sesiapa yang dengan memberi petunjuk kepada kebenaran? "Katakanlah: "Allah jualah yang memberi hidayah petunjuk kepada kebenaran; (kalau sudah demikian) maka adakah yang dapat memberi hidayah petunjuk kepada kebenaran itu, lebih berhak diturut, ataupun yang tidak dapat memberi sebarang petunjuk melainkan sesudah ia diberi hidayah petunjuk? Maka apakah alasan sikap kamu itu ? Bagaimana kamu sanggup mengambil keputusan (dengan perkara yang salah, yang tidak dapat diterima oleh akal)?"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 10:34 hingga 10:36
مصنوعی معبودوں کی حقیقت ٭٭

مشرکوں کے شرک کی تردید ہو رہی ہے کہ ” بتلاؤ تمہارے معبودوں میں سے ایک بھی ایسا ہے جو آسمانوں و زمین کو اور مخلوق کو پیدا کرسکے یا بگاڑ کر بنا سکے نہ ابتداء پر کوئی قادر نہ اعادہ پر کوئی قادر۔ بلکہ اللہ ہی ابتداء کرے وہی اعادہ کرے۔ وہ اپنے تمام کاموں میں یکتا ہے۔ پس تم طریق حق سے گھوم کر راہ ضلالت کی طرف کیوں جا رہے ہو؟ کہو تو تمہارے معبود کسی بھٹکے ہوئے کی رہبری کر سکتے ہیں؟ یہ بھی ان کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ بھی اللہ کے ہاتھ ہے۔ ہادی برحق وہی ہے، وہی گمراہوں کو راہ راست دکھاتا ہے، اس کے سوا کوئی ساتھی نہیں “۔

پس جو رہبری تو کیا کرے خود ہی اندھا بہرا ہو اس کی تابعداری ٹھیک یا اس کی اطاعت اچھی جو سچا ہادی مالک کل قادر کل ہو؟ یہ ابراہیم خلیل اللہ نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ «إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِي عَنكَ شَيْئًا» [19-مریم:42] ‏ ” ان کی پوجا کیوں کرتا ہے؟ جو نہ سنیں نہ دیکھیں نہ کوئی فائدہ دے سکیں “۔

اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ وَاللَّـهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ» [37-الصافات:95۔96] ‏ ” تم ان کی پوجا کرتے ہو جنہیں خود اپنے ہاتھوں بناتے ہو، حالانکہ تمہارا اور تمہارے کام کی تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے “۔

صفحہ نمبر3692

یہاں فرماتا ہے ” تمہاری عقلیں کیا اوندھی ہو گئیں کہ خالق مخلوق کو ایک کر دیا نیکی سے ہٹ کر بدی میں جا گرے توحید کوچھوڑ کر شرک میں پھنس گئے۔ اس کو اور اس کو پوجنے لگے۔ رب جل جلالہ مالک و حاکم و ہادی و رب سے بھٹک گئے۔ اس کی طرف خلوص دلی توجہ چھوڑ دی “۔

دلیل و برہان سے ہٹ گئے مغالطوں اور تقلید میں پھنس گئے۔ گمان اور اٹکل کے پیچھے پڑگئے۔ وہم و خیال کے بھنور میں آگئے، حالانکہ ظن و گمان فضول چیز ہے۔ حق کے سامنے وہ محض بے کار ہے تمہیں اس سے کوئی فائدہ پہنچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اعمال سے باخبر ہے وہ انہیں پوری سزا دے گا۔

صفحہ نمبر3693