Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yunus 10:51

10:51
اثم اذا ما وقع امنتم به الان وقد كنتم به تستعجلون ٥١
أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓ ۚ ءَآلْـَٔـٰنَ وَقَدْ كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ ٥١
أَثُمَّ
إِذَا
مَا
وَقَعَ
ءَامَنتُم
بِهِۦٓۚ
ءَآلۡـَٰٔنَ
وَقَدۡ
كُنتُم
بِهِۦ
تَسۡتَعۡجِلُونَ
٥١
Patutkah (kamu mengingkari azab itu), kemudian apabila ia menimpa kamu, kamu mengakui benarnya? (Sedang pengakuan pada masa itu tidak diterima bahkan dikatakan kepada kamu): "Sekarangkah baharu kamu mengakui benarnya, padahal sebelum ini kamu telah menunjukkan keingkaran dengan meminta disegerakan kedatangannya?"
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 10:48 hingga 10:52

انسان موجودہ دنیامیں اپنے کو آزاد پاتاہے۔ وہ بظاہر دیکھتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کو پکڑنے والا نہیں، کوئی اس کو سزا دینے والا نہیں۔ یہ صورت حال اس کو بھلاوے میں ڈال دیتی ہے۔ حتی کہ خدا کا داعی جب اس کو اس کے عمل کے انجام سے ڈراتاہے تو وہ خدا کے داعی کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے — ہماری سرکشی پر تم جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو وہ کب پوری ہوگی۔

اس قسم کی باتوں کا سبب نادانی کے سوا اور کچھ نہیں۔کیوں کہ یہ پکڑ خود داعیٔ حق کی طرف سے نہیں آنے والی ہے بلکہ خدا کی طرف سے آنے والی ہے۔ اور خدا ہر آن اپنی دنیا میں بتارہا ہے کہ اس کا طریقہ جلدی کا طریقہ نہیں۔

کشتی میں سوراخ ہو اور کوئی ملاح اس کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنی کشتی کو دریا میں ڈال دے تو خدا کا لازمی قانون ہے کہ ایسی کشتی پانی میں ڈوب جائے۔ مگر ایسی کشتی فوراً پانی میں نہیں ڈوبتی بلکہ خدا کی سنت کے مطابق اپنے مقرر وقت پر ڈوبتی ہے۔ اس قسم کی مثالیں دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جو انسان کو خدائی سنت کا تعارف کرارہی ہیں مگر ان کو دیکھنے کے باوجود وہ کہتا ہے کہ اگر ان اعمال پر خدا کا عذاب ہے تو وہ عذاب جلد کیوں نہیں آجاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان خدا کی پکڑ کے بارے میں سنجیدہ نہیں۔

زلزلہ اور طوفان خدائی واقعات ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ جب معاملہ خدا اور انسان کے درمیان ہو تو فیصلہ کا اختیار تمام تر صرف فریقِ اول کو ہوتا ہے۔ مگرانسان اس پہلو پر غور نہیں کرتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ خدا کا قانون فوراً حرکت میں نہیں آرہا ہے اور چونکہ وہ فوراً حرکت میں نہیں آتا اس لیے وہ غفلت میں پڑا رہتاہے۔ مگر جب خدا کا فیصلہ آئے گا تو اس وقت انسان اپنے کو بے بس پاکر سب کچھ مان لے گا۔ حالاں کہ اس وقت کا ماننا کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ عمل کا انجام پانے کا وقت ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا۔