Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yunus 10:71

10:71
۞ واتل عليهم نبا نوح اذ قال لقومه يا قوم ان كان كبر عليكم مقامي وتذكيري بايات الله فعلى الله توكلت فاجمعوا امركم وشركاءكم ثم لا يكن امركم عليكم غمة ثم اقضوا الي ولا تنظرون ٧١
۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ نُوحٍ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِن كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُم مَّقَامِى وَتَذْكِيرِى بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ فَعَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْتُ فَأَجْمِعُوٓا۟ أَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةًۭ ثُمَّ ٱقْضُوٓا۟ إِلَىَّ وَلَا تُنظِرُونِ ٧١
۞ وَٱتۡلُ
عَلَيۡهِمۡ
نَبَأَ
نُوحٍ
إِذۡ
قَالَ
لِقَوۡمِهِۦ
يَٰقَوۡمِ
إِن
كَانَ
كَبُرَ
عَلَيۡكُم
مَّقَامِي
وَتَذۡكِيرِي
بِـَٔايَٰتِ
ٱللَّهِ
فَعَلَى
ٱللَّهِ
تَوَكَّلۡتُ
فَأَجۡمِعُوٓاْ
أَمۡرَكُمۡ
وَشُرَكَآءَكُمۡ
ثُمَّ
لَا
يَكُنۡ
أَمۡرُكُمۡ
عَلَيۡكُمۡ
غُمَّةٗ
ثُمَّ
ٱقۡضُوٓاْ
إِلَيَّ
وَلَا
تُنظِرُونِ
٧١
Dan bacakanlah kepada mereka (wahai Muhammad) perihal Nabi Nuh, ketika ia berkata kepada kaumnya: "Wahai kaumku! Sekiranya kedudukan aku dalam kalangan kamu, dan peringatan yang aku berikan kepada kamu dengan ayat-ayat keterangan Allah itu, menjadi keberatan kepada kamu, maka (buatlah apa yang kamu hendak buat, kerana) kepada Allah jualah aku berserah diri. Oleh itu, tetapkanlah keazaman kamu serta sekutu-sekutu kamu untuk melakukan rancangan jahat kamu terhadapku; kemudian janganlah hendaknya rancangan jahat kamu itu, kamu jalankan secara tersembunyi (tetapi biarlah terbuka); sesudah itu bertindaklah terus terhadapku dan janganlah kamu tunggu-tunggu lagi.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

واتل علیھم نبا نوح اور (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ (مکہ والوں کو) نوح کی خبر پڑھ کر سنائیے۔ یعنی قوم کے ساتھ حضرت نوح کی سرگزشت ان کے سامنے پڑھئے۔

اذ قال لقومہ یاد کیجئے کہ جب نوح نے اپنی قوم سے کہا۔ برقول بغوی قوم نوح قابیل کی نسل سے تھی ‘ لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ حضرت نوح ‘ حضرت شیت کی نسل میں سے تھے ‘ قابیل کی نسل میں سے نہیں تھے اور چونکہ قوم کی نسبت حضرت نوح کی طرف کی گئی ہے ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم نوح حضرت شیت کی نسل میں سے تھی۔

یقوم ان کان کبر علیکم مقامی اے میری قوم ! اگر تم پر میرا قیام شاق ہوگیا ہو۔ یعنی مدت دراز تک تمہارے اندر میرا رہنا یا دعوت پر قائم رہنا اگر تمہارے لئے ناگوار ہوگیا ہو۔

وتذکیری بایت اللہ اور احکام خداوندی کی نصیحت کرنا (ناگوار اور بھاری معلوم ہوگیا ہو) ۔

فعلے اللہ توکلت پس اللہ ہی پر میرا بھروسہ ہے (میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھتا ہوں) ۔

فاجمعوا امرکم وشرکاء کم تم مع اپنی مفروضہ شرکاء کے (مجھے ضرر پہنچانے کی) اپنی تدبیر پختہ کرلو۔

اَجْمَعَ الْاَمْرَ کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیا ‘ عزم کرلیا۔ یعنی تم اور تمہارے مفروضہ شرکاء مجھ کو قتل کرنے یا دکھ پہنچانے کا پختہ عزم کرلو (کذا قال الزجاج) یا شرکاء سے پہلے مضاف محذوف ہے ‘ یعنی اپنے کام کو اور اپنے شرکاء کے کام کو درست کرلو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم اپنے کام کا پختہ ارادہ کرلو اور اپنے (مفروضہ) شریکوں کو بھی بلا لو۔

ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ پھر وہ تدبیر تمہارے دلوں کی گھٹن کا باعث بھی نہ ہونا چاہئے۔ غُمَّۃً پوشید ‘ چھپا ہوا۔ غَمَّہٗاس کو چھپایا ‘ یعنی تمہاری تدبیر پوشیدہ بھی نہ ہو ‘ بالکل واضح طور پر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم مجھے ہلاک کر چکو اور میری دن رات کی نصیحت و وعظ کے بار سے آزاد ہوجاؤ تو تمہارا حال تم پر مستور نہ رہنا چاہئے۔

ثم اقضوا الی پھر جو کچھ میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو ‘ کر گذرو۔

ولا تنظرون اور مجھے بالکل مہلت بھی نہ دو ۔ حضرت نوح کے اس کلام میں امر بمعنی تعجیز ہے (یعنی تم ایسا کر ہی نہیں سکتے ‘ اگر کرسکتے ہو تو کر گذرو ‘ انتظار کس بات کا ہے) اس کلام کو نقل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ حضرت نوح کا اعتماد اپنے رب پر نہایت مضبوط تھا۔ ان کو اللہ کی مدد پر بھروسہ تھا۔ وہ قوم کی کسی خفیہ تدبیر سے خائف نہ تھے۔ ان کو یقین تھا کہ ان کی قوم اور قوم کے معبود کچھ نہیں کرسکتے۔ نہ نفع ان کے قبضہ میں ہے نہ ضرر۔