Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yusuf 12:51

12:51
قال ما خطبكن اذ راودتن يوسف عن نفسه قلن حاش لله ما علمنا عليه من سوء قالت امرات العزيز الان حصحص الحق انا راودته عن نفسه وانه لمن الصادقين ٥١
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍۢ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٔـٰنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ٥١
قَالَ
مَا
خَطۡبُكُنَّ
إِذۡ
رَٰوَدتُّنَّ
يُوسُفَ
عَن
نَّفۡسِهِۦۚ
قُلۡنَ
حَٰشَ
لِلَّهِ
مَا
عَلِمۡنَا
عَلَيۡهِ
مِن
سُوٓءٖۚ
قَالَتِ
ٱمۡرَأَتُ
ٱلۡعَزِيزِ
ٱلۡـَٰٔنَ
حَصۡحَصَ
ٱلۡحَقُّ
أَنَا۠
رَٰوَدتُّهُۥ
عَن
نَّفۡسِهِۦ
وَإِنَّهُۥ
لَمِنَ
ٱلصَّٰدِقِينَ
٥١
Setelah perempuan-perempuan itu dipanggil), raja bertanya kepada mereka: "Apahal kamu, semasa kamu memujuk Yusuf mengenai dirinya?" Mereka menjawab: JauhNya Allah dari segala cacat cela, kami tidak mengetahui sesuatu kejahatan terhadap Yusuf". Isteri Al-Aziz pun berkata: "Sekarang ternyatalah kebenaran (yang selama ini tersembunyi), akulah yang memujuk Yusuf berkehendakkan dirinya (tetapi ia telah menolak); dan sesungguhnya adalah ia dari orang-orang yang benar.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 12:50 hingga 12:51

قید خانہ سے نکل کر حضرت یوسف کو ایک ملکی کردار ادا کرنا تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی شخصیت ملکی سطح پر ایک معروف شخصیت بن جائے۔ اس کی صورت بادشاہ کے خواب کے ذریعہ پیدا ہوگئی۔ بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ وہ اس کی تعبیر کے لیے اتنا بے چین ہوا کہ عام اعلان کرکے تمام ملک کے علماء، پیروںاور دانشوروں کو اپنے دربار میں جمع کیا۔ اور ان سے کہا کہ وہ اس خواب کی تعبیر بتائیں مگر سب کے سب عاجز رہے۔ اس طرح خواب کا واقعہ ایک عمومی شہرت کا واقعہ بن گیا۔ اب جب حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بیان کی اور بادشاہ نے اس کو پسند کیا تو اچانک وہ تمام ملک کی نظروں میں آگئے۔

بادشاہ نے ساری بات سننے کے بعد متعلقہ عورتوں سے اس کی تحقیق کی۔ سب نے بیک زبان حضرت یوسف کو بری الذمہ قرار دیا۔ عزیز مصر کی بیوی اعتراف حق میں سب سے آگے نکل گئی۔ اس نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ اب سچائی کھل چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا قصور میرا تھا۔ یوسف کا کچھ بھی قصور نہ تھا۔ عزیز مصر کی بیوی (زلیخا) کا یہ اقرار اتنا عظیم عمل ہے کہ عجب نہیں کہ اس کے بعد اس کو ایمان کی توفیق دے دی گئی ہو۔