Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa

Tafsir: Yusuf 12:90

12:90
قالوا اانك لانت يوسف قال انا يوسف وهاذا اخي قد من الله علينا انه من يتق ويصبر فان الله لا يضيع اجر المحسنين ٩٠
قَالُوٓا۟ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُ ۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَـٰذَآ أَخِى ۖ قَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَآ ۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ ٩٠
قَالُوٓاْ
أَءِنَّكَ
لَأَنتَ
يُوسُفُۖ
قَالَ
أَنَا۠
يُوسُفُ
وَهَٰذَآ
أَخِيۖ
قَدۡ
مَنَّ
ٱللَّهُ
عَلَيۡنَآۖ
إِنَّهُۥ
مَن
يَتَّقِ
وَيَصۡبِرۡ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
لَا
يُضِيعُ
أَجۡرَ
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
٩٠
Mereka bertanya (dengan hairan): "Engkau ini Yusufkah? " Ia menjawab: "Akulah Yusuf dan ini adikku (Bunyamin). Sesungguhnya Allah telah mengurniakan nikmatNya kepada kami. Sebenarnya sesiapa yang bertaqwa dan bersabar, maka sesungguhnya Allah tidak menghilangkan pahala orang-orang yang berbuat kebaikan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis

آیت نمبر 90

اب ان کو یقین ہوگیا اور کہا کہ تم ہی یوسف (علیہ السلام) ہو۔ اگرچہ یوسف (علیہ السلام) اب ایک معمر آدمی ہیں۔ اس کے بچپن کے خدو خال صاف صاف نظر آنے لگے۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اچانک اپنے آپ کو ظاہر کیا اور اجمالاً وہ ان کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے جہالت میں اپنے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ بس وہ صرف یہی بات کہتے ہیں اور اللہ کے ان احسانات کا تذکرہ کرتے ہیں جو ان پر اور ان کے بھائی پر ہوئے۔ اور یہ احسانات اس لیے ہوئے کہ ہم نے تقویٰ اور صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور یہ سب کچھ اللہ کے نظام عدل کا نتیجہ ہے۔ وہ متقین و صابرین کو جزائے خیر دیتا ہے۔

لیکن اس اچانک انکشاف کا اثر ان بھائیوں پر کیا ہوا ؟ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ پوری گھناؤنی صورت حال مجسم ہوگئی جو وہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کرتے رہے تھے۔ یہ بےحد شرمندہ ہیں۔ جس کے ساتھ انہوں نے برا کیا وہ بطور محسن کھڑا ہے ، جس کے ساتھ انہوں نے سنگدلی کی وہ نہایت ہی حلیم ہے اور جس کے ساتھ انہوں نے ظلم کیا وہ کریم اور محسن ہے۔ اب اس کے سوا وہ کہہ کیا سکتے تھے۔