Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Luqman 31:21

31:21
واذا قيل لهم اتبعوا ما انزل الله قالوا بل نتبع ما وجدنا عليه اباءنا اولو كان الشيطان يدعوهم الى عذاب السعير ٢١
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۚ أَوَلَوْ كَانَ ٱلشَّيْطَـٰنُ يَدْعُوهُمْ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ ٢١
وَإِذَا
قِيلَ
لَهُمُ
ٱتَّبِعُواْ
مَآ
أَنزَلَ
ٱللَّهُ
قَالُواْ
بَلۡ
نَتَّبِعُ
مَا
وَجَدۡنَا
عَلَيۡهِ
ءَابَآءَنَآۚ
أَوَلَوۡ
كَانَ
ٱلشَّيۡطَٰنُ
يَدۡعُوهُمۡ
إِلَىٰ
عَذَابِ
ٱلسَّعِيرِ
٢١
En als er tegen hen gezegd wordt: “Volg dat wat Allah heeft neergezonden,” zeggen zij: “Nee, wij zullen volgen wat onze voorvaderen (gevolgd) hebben.” Zelfs als Sheitan hen tot de bestraffing van het Vuur uitnodigt?
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔۔ علیہ اباءنا (31: 21) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا “۔ یہ ہے ان کی واحد دلیل جو وہ اپنے رویے پر پیش کرسکتے ہیں ۔ یہ بھی عجیب دلیل ہے ۔ پتھر جیسی جامد تقلید ، جو نہ علم پر مبنی ہے ، نہ کسی نظریہ پر مبنی ہے ۔ یہی وہ تقلید ہے جس سے اسلام انسانیت کو چھڑانا چاہتا ہے ۔ ان کی عقل کو آزادی دیتا ہے کہ وہ آزادانہ غور دفکر کریں اور انسان کے اندر بیداری ، حرکت اور روشنی پھیلانا چاہتا ہے لیکن انسان ہیں کہ وہ اپنے ماضی کے آثار سے منحرف ہوگئے ہیں اور مویشیوں کی طرح اپنے آپ کو ایک ستون سے باندھا ہوا ہے اور بیڑیاں ازخود پہن رکھی ہیں ۔

اسلام تو دراصل ضمیر کی مزیت اور شعور کی مزیت کا نام ہے ۔ وہ نور کی تلاش میں آگے بڑھتا ہے ۔ وہ زندگی کا ایسا نظام ہے جس میں کوئی تقلید اور کوئی غلامی اور جمود نہیں ہے ۔ لیکن انسوس ہے کہ یہ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور اپنی روح سے اس آزادی کو پرے پھینکتے ہیں اور اللہ کے بارے میں بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی کتاب منیر کے مجادلہ کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے اور ان کے موقف کی ایک خفیہ خطر ناکی بیان کو دی جاتی ہے ۔

اولو کان ۔۔۔۔۔ عذاب السعیر (31: 21) ” کیا یہ انہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان انیں بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف کیوں نہ بلاتاہو “۔ انہوں نے جو یہ موقف اختیار کو کررکھا ہے تو وہ شیطان کی دعوت پر اختیارکر رکھا ہے تاکہ وہ انہیں جہنم کی آگ تک پہنچادے ۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر شیطان انہیں جہنم کی طرف لے جارہا ہے تو پھر بھی یہ اس کی تقلید کریں گے ۔ یہ نہایت ہی احساس دلانے والی چٹکی ہے ۔ نہایت ہی بیدار کرنے والی اور ڈرانے والی ۔ خصوصاً اس عظیم کائنات دلیل کے بعد ۔

اس ہٹ دھرمی پر مبنی جدہل اور یہ دلیل جھگڑے کے حوالے سے ۔ اب ان کو بتایا جاتا ہے کہ ان کے لیے مناسب طرز عمل کیا ہے اور اس کائناتی دلیل اور اللہ کے وسیع انعامات کے بعد انہیں کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہئے۔