Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: An-Nahl 16:115

16:115
انما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما اهل لغير الله به فمن اضطر غير باغ ولا عاد فان الله غفور رحيم ١١٥
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ١١٥
إِنَّمَا
حَرَّمَ
عَلَيۡكُمُ
ٱلۡمَيۡتَةَ
وَٱلدَّمَ
وَلَحۡمَ
ٱلۡخِنزِيرِ
وَمَآ
أُهِلَّ
لِغَيۡرِ
ٱللَّهِ
بِهِۦۖ
فَمَنِ
ٱضۡطُرَّ
غَيۡرَ
بَاغٖ
وَلَا
عَادٖ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
غَفُورٞ
رَّحِيمٞ
١١٥
Hij heeft jullie slechts het kadaver en het bloed en het vlees van het varken en hetgeen waarover anders dan (de Naam van) Allah afgeroepen is verboden. Maar voor hem, die door noodzaak wordt gedreven, terwijl hij niet wil, noch de grens wil overschrijden, is Allah voorzeker Vergevingsgezind, Genadevol.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

یہ چیزیں مختلف وجوہات سے حرام کی گئی ہیں یا تو اس لئے کہ ان میں جسمانی مصرت ہے یا حسی مضرت ہے مثلاً مردار ، خون اور لحم لغنزیز میں یا نفسیاتی اور نظریاتی مضرت ہے مثلاً وہ ذبحیے جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔

آیت : فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان اللہ غفور رحیم۔ (521) ۔

ترجمہ :” البتہ بھوک سے مجبور اور بےقرار ہو کر اگر کوئی ان چیزوں کو کھانے ، بغیر اس کے کہ وہ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو یا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقینا اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے “۔

اس لئے کہ دین اسلام ایک سہل دین ہے اور اس میں کسی پر غیر ضروری سختی نہیں ہے۔ جس شخص کو موت کا ڈر ہو ، یا بھوک سے سخت بیماری کا اندیشہ ہو یا سخت پیاس کا اندیشہ ہو تو وہ بقدر ضرورت ان چیزوں کو استعمال کرسکتا ہے۔ اس بارے میں فقہی اختلافات ہیں جن کا تذکرہ پہلے ہم کر آئے ہیں۔ غیر باغ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اصول حرمت کو توڑنے والا نہ ہو اور غیر عاد کا مطلب یہ ہے کہ وہ قدر ضرورت سے آگے بڑھنے والا نہ ہو کیونکہ صرف بقدر ضرورت اجازت دی گئی ہے۔

یہ ہیں حدود حلال و حرام جو اللہ نے مطعومات میں وضع کیے ہیں۔ لہٰذا بت پرسانہ اوہام کے نتیجے میں حلال و حرام کے ان حدود سے تجاوز مت کرو ور نہ جھوٹ بولو ، اس طرح کہ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دو اور یہ کہو کہ یہ اللہ کا حکم ہے کیونکہ حلال و حرام کے حدود قیود وضع کرنا صرف اللہ کے اختیارات میں ہے۔ اس کا تعلق قانون سازی سے ہے اور قانون سازی کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ جو شخص اللہ کے اذن کے سوا اور قرآن و سنت کی دلیل کے سوا قانون سازی کرے گا اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھے گا وہ جھوٹا ہے اور جھوٹے اللہ کے ہاں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔