Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Ar-Ra'd 13:16

13:16
قل من رب السماوات والارض قل الله قل افاتخذتم من دونه اولياء لا يملكون لانفسهم نفعا ولا ضرا قل هل يستوي الاعمى والبصير ام هل تستوي الظلمات والنور ام جعلوا لله شركاء خلقوا كخلقه فتشابه الخلق عليهم قل الله خالق كل شيء وهو الواحد القهار ١٦
قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ قُلِ ٱللَّهُ ۚ قُلْ أَفَٱتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّۭا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِى ٱلظُّلُمَـٰتُ وَٱلنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوا۟ كَخَلْقِهِۦ فَتَشَـٰبَهَ ٱلْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ ٱللَّهُ خَـٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُوَ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّـٰرُ ١٦
قُلۡ
مَن
رَّبُّ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِ
قُلِ
ٱللَّهُۚ
قُلۡ
أَفَٱتَّخَذۡتُم
مِّن
دُونِهِۦٓ
أَوۡلِيَآءَ
لَا
يَمۡلِكُونَ
لِأَنفُسِهِمۡ
نَفۡعٗا
وَلَا
ضَرّٗاۚ
قُلۡ
هَلۡ
يَسۡتَوِي
ٱلۡأَعۡمَىٰ
وَٱلۡبَصِيرُ
أَمۡ
هَلۡ
تَسۡتَوِي
ٱلظُّلُمَٰتُ
وَٱلنُّورُۗ
أَمۡ
جَعَلُواْ
لِلَّهِ
شُرَكَآءَ
خَلَقُواْ
كَخَلۡقِهِۦ
فَتَشَٰبَهَ
ٱلۡخَلۡقُ
عَلَيۡهِمۡۚ
قُلِ
ٱللَّهُ
خَٰلِقُ
كُلِّ
شَيۡءٖ
وَهُوَ
ٱلۡوَٰحِدُ
ٱلۡقَهَّٰرُ
١٦
Zeg: “Wie is de Heer van de hemelen en de aarde?” Zeg: “Allah.” Zeg: “Nemen jullie dan (ter aanbidding) naast Hem beschermers terwijl zij geen macht hebben om voor zichzelf nut (te verwerven) of schade (af te wenden)?” Zeg: “Is de blinde gelijk aan de ziende? Of is de duisternis gelijk aan het licht? Of kennen zij aan Allah deelgenoten toe die iets geschapen zouden hebben, zoals Zijn schepping?” Zodat het scheppen voor hen hetzelfde is. Zeg: “Allah is de Schepper van alle zaken, Hij is de Ene, de Overweldiger.”
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 13:15tot 13:16

خدا کا مطالبہ انسان سے یہ ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائے۔ یہی ’’جھکنا‘‘ تمام کائنات کا دین ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز خداکے حکم کے آگے کامل طورپر جھکی ہوئی ہے۔ اسی جھکاؤ کی ایک علامت ہے چیزوں کے سایہ کا صبح وشام مغرب اور مشرق کی طرف گرنا۔ چیزوں کا یہ سایہ گویا اس سجدہ کو مادی طورپر ممثل کررہا ہے جو انسان سے شعوری طور پر مطلوب ہے۔ اوّل الذکر سجدے کا علامتی روپ ہے اور ثانی الذکر اس کا حقیقی روپ۔

وسیع کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ساری کائنات ایک ہی آفاقی قانون میں بندھی ہوئی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کا خالق اور مالک ایک ہے۔ انسان کا علمی اور عقلی مطالعہ کسی بھی طرح یہ ثابت نہیں کرتا کہ اس کائنات میں ایک سے زیادہ طاقتوں کی کار فرمائی ہو۔ ایسی حالت میں ایک خدا کے سوا مزید خدا ماننا سراسر بے بنیاد مفروضہ ہے۔

’’آنکھ‘‘ کا مشاہدہ تو صرف ایک خدا کا پتہ دیتاہے۔ اس لیے جو لوگ ایک خدا سے زیادہ خدا مانیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اندھے ہیں۔ انھوں نے اپنے اندھے پن کی وجہ سے کئی خدا فرض کر ليے ہیں، نہ کہ حقیقی معنوں میں علم اور مشاہدہ کی بنیاد پر۔