Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Ar-Ra'd 13:5

13:5
۞ وان تعجب فعجب قولهم ااذا كنا ترابا اانا لفي خلق جديد اولايك الذين كفروا بربهم واولايك الاغلال في اعناقهم واولايك اصحاب النار هم فيها خالدون ٥
۞ وَإِن تَعْجَبْ فَعَجَبٌۭ قَوْلُهُمْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٰبًا أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍۢ جَدِيدٍ ۗ أُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِرَبِّهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ ٱلْأَغْلَـٰلُ فِىٓ أَعْنَاقِهِمْ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ ٥
۞ وَإِن
تَعۡجَبۡ
فَعَجَبٞ
قَوۡلُهُمۡ
أَءِذَا
كُنَّا
تُرَٰبًا
أَءِنَّا
لَفِي
خَلۡقٖ
جَدِيدٍۗ
أُوْلَٰٓئِكَ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
بِرَبِّهِمۡۖ
وَأُوْلَٰٓئِكَ
ٱلۡأَغۡلَٰلُ
فِيٓ
أَعۡنَاقِهِمۡۖ
وَأُوْلَٰٓئِكَ
أَصۡحَٰبُ
ٱلنَّارِۖ
هُمۡ
فِيهَا
خَٰلِدُونَ
٥
En als jij je verbaast, nog verbazender zijn dan hun woorden: “Als wij stof zijn geworden, zullen wij dan inderdaad weer als een nieuwe schepping (verrijzen)?” Zij zijn degenen die niet in hun Heer geloven! Zij zijn degenen die ijzeren ketenen zullen hebben die hun handen aan hun nekken zullen verbinden. Zij zullen de bewoners van het Vuur zijn en daarin verblijven.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
عقل کے اندھے ضدی لوگ ٭٭

اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے جھٹلانے کا کوئی تعجب نہ کریں یہ ہیں ہی ایسے اس قدر نشانیاں دیکھتے ہوئے، اللہ کی قدرت کا ہمیشہ مطالعہ کرتے ہوئے، اسے مانتے ہوئے کہ سب کا خالق اللہ ہی ہے پھر بھی قیامت کے منکر ہوتے ہیں حالانکہ اس سے بڑھ کر روز مرہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر دیتا ہے “۔ ہر عاقل جان سکتا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش انسان کی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ اور دوبارہ پیدا کرنا بہ نسبت اول بار پیدا کرنے کے بہت آسان ہے۔

جیسے فرمان ربانی ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [46-الأحقاف:33] ‏ یعنی ” جس نے آسمان و زمین بغیر تھکے پیدا کر دیا، کیا وہ مردوں کو جلانے پر قادر نہیں؟ بیشک ہے بلکہ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے “۔

پس یہاں فرماتا ہے کہ ” اصل یہ کفار ہیں، ان کی گردنوں میں قیامت کے دن طوق ہوں گے اور یہ جہنمی ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے “۔

صفحہ نمبر4119