Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Ma'idah 5:119

5:119
قال الله هاذا يوم ينفع الصادقين صدقهم لهم جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها ابدا رضي الله عنهم ورضوا عنه ذالك الفوز العظيم ١١٩
قَالَ ٱللَّهُ هَـٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ ٱلصَّـٰدِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّـٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ ١١٩
قَالَ
ٱللَّهُ
هَٰذَا
يَوۡمُ
يَنفَعُ
ٱلصَّٰدِقِينَ
صِدۡقُهُمۡۚ
لَهُمۡ
جَنَّٰتٞ
تَجۡرِي
مِن
تَحۡتِهَا
ٱلۡأَنۡهَٰرُ
خَٰلِدِينَ
فِيهَآ
أَبَدٗاۖ
رَّضِيَ
ٱللَّهُ
عَنۡهُمۡ
وَرَضُواْ
عَنۡهُۚ
ذَٰلِكَ
ٱلۡفَوۡزُ
ٱلۡعَظِيمُ
١١٩
Allah zei: “Dit is de Dag waarop de waarachtigen (in hun geloof) van hun waarachtigheid zullen profiteren (van de geneugten in de eeuwige Tuinen): voor hen zijn de Tuinen waar rivieren onderdoor stromen – zij zullen daarin voor altijd verblijven. Allah is tevreden over hun (verrichte daden) en zij over Hem (vanwege de Paradijslijke beloningen). Dat is het grote succes.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 5:119tot 5:120
موحدین کے لیے خوش خبریاں ٭٭

حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو ان کی بات کا جو جواب قیامت کے دن ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ” آج کے دن موحدوں کو توحید نفع دے گی، وہ ہمیشگی والی جنت میں جائیں گے، وہ اللہ سے خوش ہوں گے اور اللہ ان سے خوش ہو گا، «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ» [9-التوبة:72] ‏ فی الواقع رب کی رضا مندی زبردست چیز ہے “۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ ان پر تجلی فرمائے گا اور ان سے کہے گا تم جو چاہو مجھ سے مانگو میں دوں گا، وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی طلب کریں گے، اللہ تعالیٰ سب کے سامنے اپنی رضا مندی کا اظہار کرے گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1256/4:ضعیف] ‏

پھر فرماتا ہے ” یہ ایسی بے مثل کامیابی ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی “۔

جیسے اور جگہ ہے «‏لِمِثْلِ هَـٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ» ‏ [37-الصفات:61] ‏ ” اسی کیلئے عمل کرنے والوں کو عمل کی کوشش کرنی چاہیئے “۔

اور آیت میں ہے «وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ» [83-المطففين:26] ‏ ” رغبت کرنے والے اس کی رغبت کر لیں “۔

صفحہ نمبر2524

پھر فرماتا ہے ” سب کا خالق، سب کا مالک، سب پر قادر، سب کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر چیز اسی کی ملکیت میں اسی کے قبضے میں اسی کی چاہت میں ہے، اس جیسا کوئی نہیں، نہ کوئی اس کا وزیر و مشیر ہے، نہ کوئی نظیر و عدیل ہے نہ اس کی ماں ہے، نہ باپ، نہ اولاد نہ بیوی۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ کوئی اس کے سوا رب ہے “۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ما فرماتے ہیں۔ سب سے آخری سورت یہی سورۃ المائدہ اتری ہے۔ [سنن ترمذي:3063،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ‏

(‏الحمداللہ سورۃ المائدہ کی تفسیر ختم ہوئی)

صفحہ نمبر2525