Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Ma'idah 5:31

5:31
فبعث الله غرابا يبحث في الارض ليريه كيف يواري سوءة اخيه قال يا ويلتا اعجزت ان اكون مثل هاذا الغراب فاواري سوءة اخي فاصبح من النادمين ٣١
فَبَعَثَ ٱللَّهُ غُرَابًۭا يَبْحَثُ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُرِيَهُۥ كَيْفَ يُوَٰرِى سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَـٰوَيْلَتَىٰٓ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَـٰذَا ٱلْغُرَابِ فَأُوَٰرِىَ سَوْءَةَ أَخِى ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلنَّـٰدِمِينَ ٣١
فَبَعَثَ
ٱللَّهُ
غُرَابٗا
يَبۡحَثُ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
لِيُرِيَهُۥ
كَيۡفَ
يُوَٰرِي
سَوۡءَةَ
أَخِيهِۚ
قَالَ
يَٰوَيۡلَتَىٰٓ
أَعَجَزۡتُ
أَنۡ
أَكُونَ
مِثۡلَ
هَٰذَا
ٱلۡغُرَابِ
فَأُوَٰرِيَ
سَوۡءَةَ
أَخِيۖ
فَأَصۡبَحَ
مِنَ
ٱلنَّٰدِمِينَ
٣١
En nadat (Kaїn geen raad wist met het lijk van Abel) stuurde Allah een raaf die (met zijn poten en snavel een gat) in de grond graafde om hem te tonen hoe hij het dode lichaam van zijn broeder (en zijn wandaad) moest verbergen. (Kaїn) zei: “Wee mij! Ben ik zelfs niet in staat dat ik niet net zoals de raaf het dode lichaam van mijn broeder kan verbergen?” Daarop behoorde hij tot degenen die spijt hebben. (door berouw te tonen).
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

(آیت) ” فَبَعَثَ اللّہُ غُرَاباً یَبْحَثُ فِیْ الأَرْضِ لِیُرِیَہُ کَیْْفَ یُوَارِیْ سَوْء ۃَ أَخِیْہِ قَالَ یَا وَیْْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَکُونَ مِثْلَ ہَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِیَ سَوْء ۃَ أَخِیْ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِیْنَ (31)

” پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ۔ یہ دیکھ کر وہ بولا ” افسوس مجھ پر ! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا ، اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت بچھتایا)

روایات میں آتا ہے کہ ایک کوے نے دوسرے کو قتل کردیا یا اس نے دوسرے کوے کی لاش کو پایا ۔ یہ کوا زمین کھودنے لگا ۔ اس کے بعد اس نے گڑھے میں ڈال کر اس پر مٹی ڈالنا شروع کیا ، اس موقع پر اس قاتل نے افسوسناک انداز میں اپنی اس ندامت کا اظہار کیا اور پھر اپنے بھائی کی لاش کردیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قاتل نے اس سے قبل کسی کو دفن ہوتے نہ دیکھا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ضرور لاش کو دفن کردیتا اور یہ ممکن ہے کہ اس زمین پر یہ پہلی میت ہو یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ۔ یا یہ کہ یہ قاتل نوجوان تھا اور اس نے اس سے قبل کسی کو میتوں کو دفناتے نہ دیکھا تھا ۔ دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں ۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس قاتل کی ندامت نہ تھی ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے بلکہ وہ نادم اس بات پر ہوا کہ اس کو اس فعل کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور اس فعل کے بعد اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ‘ اس کی زندگی تلخ ہوگئی اور وہ نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ۔

جس طرح کوے نے دوسرے کوے کی لاش کو دفن کیا ‘ اس طرح اس نے بھی دفن کیا ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کوے ایسا کرتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قاتل کو سکھانے کے لئے ایک کوے کو بھیج دیا ہو اور یہ خارق عادت کام تھا جو اللہ نے کوے سے کروایا ۔ یہ دونوں باتیں اللہ کے لئے برابر ہیں جو ذات زندہ انسان میں کمالات ودیعت کرتی ہے ‘ وہ ذات اس پر بھی قادر ہے کہ وہ ان کمالات کا صدور کسی بھی زندہ چیز سے کرا دے ۔ یہ دونوں امور اس کی قدرت میں ہیں ۔

اس مسلسل قصے کو پڑھنے اور دیکھنے کے بعد ذہن انسانی پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ‘ قرآن یہاں ان کو ریکارڈ پر لاتا ہے تاکہ ان کو ایک شعوری سوچ بنا دے اور اس سوچ کی اساس پر اگر کوئی شخص قتل کا ارتکاب کر بھی لے تو اس سے منصفانہ قصاص لیا جائے اور مجرم کو معلوم ہو کہ اگر اس نے جرم کیا تو قانون قصاص اس کے انتظار میں ہے ۔