Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Mu'minun 23:115

23:115
افحسبتم انما خلقناكم عبثا وانكم الينا لا ترجعون ١١٥
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَـٰكُمْ عَبَثًۭا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ ١١٥
أَفَحَسِبۡتُمۡ
أَنَّمَا
خَلَقۡنَٰكُمۡ
عَبَثٗا
وَأَنَّكُمۡ
إِلَيۡنَا
لَا
تُرۡجَعُونَ
١١٥
Denken jullie dat Wij jullie (zomaar) hebben geschapen zodat (jullie jezelf in onachtzaamheid) kunnen vermaken (met de geneugten des levens), zonder dat jullie bij Ons worden geroepen?”
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

افحسبتم۔۔۔۔۔۔۔۔ لاترجعون ” معلوم ہونا چاہیے۔ حکمت تخلیق کا لازمی تقاضا ہے کہ بعث بعد الموت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا قیام مقدر کردیا ہے۔ اس کے مقاصد تدبیر کائنات کا حصہ ہیں۔ قیامت تخلیق کا منطقی نتیجہ ہے۔ بعث کے ساتھ تخلیق کائنات اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے اور مقصد تخلیق پورا ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت سے وہی لوگ غفلت کرسکتے ہیں جن کے دلوں پر پردے آگئے ہوں اور جن کی فطرت مسخ ہوچکی ہو ‘ جو حکمت الہیہ پر کبھی غورو فکر کرنے کی تکلیف ہی نہیں کرتے حالانکہ یہ حکمت اس کائنات کے اندر بکھری پڑی ہے۔

سورة کا خاتمہ عقیدہ توحید کے اعلان پر ہوتا ہے اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے شرک کیا وہ عظیم خسارے میں پڑگئے جبکہ اہل توحید فلاح پائیں گے۔ نبی ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ کی رحمت کے طلبگارہوں۔