Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Mu'minun 23:117

23:117
ومن يدع مع الله الاها اخر لا برهان له به فانما حسابه عند ربه انه لا يفلح الكافرون ١١٧
وَمَن يَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرْهَـٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْكَـٰفِرُونَ ١١٧
وَمَن
يَدۡعُ
مَعَ
ٱللَّهِ
إِلَٰهًا
ءَاخَرَ
لَا
بُرۡهَٰنَ
لَهُۥ
بِهِۦ
فَإِنَّمَا
حِسَابُهُۥ
عِندَ
رَبِّهِۦٓۚ
إِنَّهُۥ
لَا
يُفۡلِحُ
ٱلۡكَٰفِرُونَ
١١٧
En ieder die een andere god naast Allah aanroept waarvoor hij geen bewijs heeft: zijn afrekening is slechts bij zijn Heer. Zeker! De ongelovigen zullen niet welslagen.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 23:116tot 23:118

فتعلی اللہ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین اس سے پہلے قیامت کا منظر گزر چکا ہے۔ اس پر یہ تبصرہ ہوتا ہے ‘ نیز اس سے قبل کے مناظر میں بحث و مباحثہ اور دلائل و بینات کا مفعل ذکر ہوچکا تھا۔ یہ تبصرہ اس پوری سورة کا منطقی نتیجہ ہے کہ اللہ شرک سے پاک ہے۔ وہ مالک حق ہے اور وہی مقتدر اعلیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ بادشاہت اس کی ہے اور وہی بلندی کا مستحق ہے۔ وہ رب عرش عظیم ہے۔

اب جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور شخصیت کی الوہیت اور حاکمیت کو مانتے ہیں ان کے پاس اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نہ اس کائنات میں اس کا کوئی ثبوت ہے ‘ نہ انسانی فطرت اس کو مانتی ہے اور نہ انسانی عقل اس پر آمادہ ہوتی ہے۔ جو لوگ ایسا دعویٰ کریں گے ان کو اپنے رب کے سامنے حساب دینا ہوگا اور حساب کا نتیجہ یہی ہے کہ کافر کبھی فلاح نہیں پاتے۔ یہ اللہ کی سنت ہے اور یہ اٹل ہے۔ اس کے بالمقابل اہل ایمان فلاح پائیں گے اور یہ تقاضائے فطرت و تقاضے ئے ناموس کائنات ہے۔

اب کافروں کے پاس جو انعامات ہیں ‘ دنیا کا سازو سامان ہے اور دنیا کا اقتدار ہے جو بعض اوقات قائم ہوتا رہتا ہے تو یہ ان کی کامیابی نہیں ہے۔ یہ ان کے لیے فتنہ اور آزمائش ہے۔ اگر ان میں سے بعض اس دنیا میں بلاحساب چلے جائیں تو آخرت میں حساب ان کے لیے تیار ہے ‘ وہاں ان کو پورا پورا حساب دینا ہوگا۔ آخرت کا حساب اس تخلیق کا آخری منظر ہوگا۔ اللہ کی تخلیق کے نظام میں آخرت اس دنیا سے علیحدہ اور دور نہیں ہے۔ یہ اس دنیا کا آخری صفحہ ہے اور اس کا حصہ ہے۔

سورة مومنون کی آخری آیت میں نبی ﷺ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کی طلب کرتے رہیں۔

وقل رب ۔۔۔۔۔۔۔ الرحمین (23 : 118) ” اور اے نبی ﷺ کہو ‘ میرے رب درگزر فرما اور رحم کر ‘ تو سب رحیموں سے اچھارحیم ہے “۔ دیکھئے سورة کا آغاز اور انجام ایک ہی مضمون پر ہوتا ہے۔ آغاز بھی اس مضمون سے ہے کہ مومنین کامیاب ہوئے اور کافرین خسارے میں پڑگئے۔ آغاز میں بھی یہ مضمون تھا کہ نماز میں خشوع و خضوع اختیار کیا جائے اور یہاں بھی اللہ کے سامنے دعاء اور طلب رحمت ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام یکساں ہوجاتے ہیں۔