Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Kahf 18:33

18:33
كلتا الجنتين اتت اكلها ولم تظلم منه شييا وفجرنا خلالهما نهرا ٣٣
كِلْتَا ٱلْجَنَّتَيْنِ ءَاتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِم مِّنْهُ شَيْـًۭٔا ۚ وَفَجَّرْنَا خِلَـٰلَهُمَا نَهَرًۭا ٣٣
كِلۡتَا
ٱلۡجَنَّتَيۡنِ
ءَاتَتۡ
أُكُلَهَا
وَلَمۡ
تَظۡلِم
مِّنۡهُ
شَيۡـٔٗاۚ
وَفَجَّرۡنَا
خِلَٰلَهُمَا
نَهَرٗا
٣٣
Elk van deze twee tuinen bracht haar vruchten voort, en deed niet in het minst daarin tekort en Wij zorgden voor een rivier die tussen hen doorstroomde.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

” دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی “۔ یہاں قرآن کریم نقص اور کمی کے لئے لفظ ” ظلم “ استعمال کرتا ہے تاکہ ان دونوں باغوں اور ان کے مالک کے کردار کے درمیان تقابل پیدا کیا جاس کے ، کیونکہ باغات نے تو اپنا حق ادا کردیا ، جبکہ باغات کے مالک نے تکبر کیا ، سرکشی اختیار کی اور کبرو غرور کی وجہ سے اللہ کا شکر ادا نہ کیا اور ظلم کیا۔

اب ذرا ان دو باغوں کے اس مالک کو ملاحظہ کریں کہ اس کا پیمانہ بھر جاتا ہے اور وہ ان کو دیکھ کر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے۔ فخر و مباہات سے اس کا سر غرور میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کا پیمانہ مرغی کے پیمان کی طرح ہے ، جلدی بھر جاتا ہے اور پھر یہ طائوس کی طرح فخر سے ناچنے لگتا ہے اور اپنے فقیر ساتھی اور ہمسائے پر بوجہ کبر ، اپنے آپ کو بلند سمجھتا ہے اور یوں گویا ہوتا ہے :