Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Kahf 18:82

18:82
واما الجدار فكان لغلامين يتيمين في المدينة وكان تحته كنز لهما وكان ابوهما صالحا فاراد ربك ان يبلغا اشدهما ويستخرجا كنزهما رحمة من ربك وما فعلته عن امري ذالك تاويل ما لم تسطع عليه صبرا ٨٢
وَأَمَّا ٱلْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلَـٰمَيْنِ يَتِيمَيْنِ فِى ٱلْمَدِينَةِ وَكَانَ تَحْتَهُۥ كَنزٌۭ لَّهُمَا وَكَانَ أَبُوهُمَا صَـٰلِحًۭا فَأَرَادَ رَبُّكَ أَن يَبْلُغَآ أَشُدَّهُمَا وَيَسْتَخْرِجَا كَنزَهُمَا رَحْمَةًۭ مِّن رَّبِّكَ ۚ وَمَا فَعَلْتُهُۥ عَنْ أَمْرِى ۚ ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًۭا ٨٢
وَأَمَّا
ٱلۡجِدَارُ
فَكَانَ
لِغُلَٰمَيۡنِ
يَتِيمَيۡنِ
فِي
ٱلۡمَدِينَةِ
وَكَانَ
تَحۡتَهُۥ
كَنزٞ
لَّهُمَا
وَكَانَ
أَبُوهُمَا
صَٰلِحٗا
فَأَرَادَ
رَبُّكَ
أَن
يَبۡلُغَآ
أَشُدَّهُمَا
وَيَسۡتَخۡرِجَا
كَنزَهُمَا
رَحۡمَةٗ
مِّن
رَّبِّكَۚ
وَمَا
فَعَلۡتُهُۥ
عَنۡ
أَمۡرِيۚ
ذَٰلِكَ
تَأۡوِيلُ
مَا
لَمۡ
تَسۡطِع
عَّلَيۡهِ
صَبۡرٗا
٨٢
Wat de muur betreft: deze behoorde toe aan de twee weesjongens (Asram & Sariem woonachtig) in de stad. Onder (deze muur) bevond zich een (verborgen)" schat (bestaande uit goud, zilver én een boek met nuttige kennis) die hen (rechtmatig) toebehoorde; en (vanwege het feit dat) hun vader een rechtschapen man was (zorgde Allah niet alleen voor de bescherming van de kinderen maar ook voor het geheim van de schat want) het was de bedoeling van jouw Heer dat zij zouden opgroeien tot ze de volwassenheid hadden bereikt (om dan vervolgens) de schat op te graven als een genade van jullie Heer. Ik deed het niet op eigen gezag. Dit is de uitleg over hetgeen waarvoor jij geen geduld kon opbrengen.”
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 18:81tot 18:82

یہ دیوار جسے از سر نو کھڑا کرنے میں اس شخص نے اپنے آپ کو تھکایا اور گائوں والوں سے اس پر کوئی اجر بھی طلب نہ کیا۔ جبکہ دونوں بھوکے بھی تھے اور گائوں والوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار بھی کردیا تھا۔ اس کے نیچے خزانہ تھا اور یہ خزانہ گائوں کے دو ضعیف یتیموں کی ملکیت تھا۔ اگر یہ دیوار گر جاتی ، خزانہ ظاہر ہوجاتا تو لوگ اسے اڑا لیتے اور یہ یتیم کوئی مدافعت نہ کرسکتے چونکہ ان کا باپ صالح تھا اس لئے باپ کی نیکی نے ان بچوں کو فائدہ دیا۔ ان کی ذاتی کمزوریوں پر بھی اللہ کو رحم آیا۔ اس لئے اللہ کے حکم سے یہ دیوار تعمیر ہوئی کہ وہ ذرا مضبوط ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور اسے بچا بھی سکیں۔

اس کے بعد یہ عبد صالح اس کارنامے سے اپنے ہاتھ جھاڑ دیتا ہے۔ یہ تو اللہ کی رحمت تھی جس نے یہ سب تصرفات کیے۔ اللہ کا حکم تھا ، اپنی مرضی سے اس نے کچھ نہ کیا۔ ان تمام امور میں اللہ نے عبدصالح کو غیب کی اطلاع کردی اور حکم دیا کہ یہ تصرفات کرو۔

رحمۃ من ربک وما فعلتہ عن امری (81 : 88) ” یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا۔ میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا۔ “

اب ان تصرفات کا پس منظر سامنے آگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اللہ کا غیبی نظام کیا ہے اور اللہ اپنے غیب اسی کو بتاتا ہے جس کے بارے میں اس کی رضا ہو۔

جب اس راز کا انکشاف ہوتا ہے تو دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں اور عبدصالح منظر سے غائب ہوجاتا ہے۔ جس طرح وہ اچانک نمودار ہوا تھا۔ اس طرح اچانک پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس قصے میں اس عظیم حکمت اور تدبر کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ جس کے مطباق اس کائنات کا نظام چلتا ہے اور یہ سب حکمت پس رپدہ غیب سے اپنا کام کرتی ہے۔

اب یہاں دیکھیے کہ قصہ موسیٰ اور قصہ اصحاب کہف میں بھی غائبانہ حکمت الہیہ ایک قدر مشرک ہے۔ یہ کائنات اللہ کے وسیع علم کے مطباق چل رہی ہے۔ انسان کے لئے اس پر حاوی ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ انسان پر دئہ غیب سے ادھر کھڑا ہے۔ پر دئہ غیب کے اسرار و رموز سے واقف اللہ ہی ہے۔