Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Mulk 67:8

67:8
تكاد تميز من الغيظ كلما القي فيها فوج سالهم خزنتها الم ياتكم نذير ٨
تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ ٱلْغَيْظِ ۖ كُلَّمَآ أُلْقِىَ فِيهَا فَوْجٌۭ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَآ أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌۭ ٨
تَكَادُ
تَمَيَّزُ
مِنَ
ٱلۡغَيۡظِۖ
كُلَّمَآ
أُلۡقِيَ
فِيهَا
فَوۡجٞ
سَأَلَهُمۡ
خَزَنَتُهَآ
أَلَمۡ
يَأۡتِكُمۡ
نَذِيرٞ
٨
Zij barst bijna in woede uit. Iedere keer dat daar een groep in wordt geworpen, zal zijn bewaker vragen: “Is er geen waarschuwer tot jullie gekomen?”
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

اور جہنم کے نگرانوں کی حالت بھی یہی ہوگی۔

کلما .................... نذیر (76 : 8) ” ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ “ یہ بات واضح ہے کہ جہنم میں ان سے یہ سوال محض معلومات حاصل کرنے کے لئے نہ ہوگا ، یہ ان کی سرزنش کرنے اور ان کو دلیل کرنے کے لئے ہوگا ، گویا جہنم کے کارندے بھی جہنم کے ساتھ اس غیظ وغضب میں شریک ہوں گے ۔ جس طرح وہ دونوں ان کو عذاب دینے میں شریک ہیں اور کسی مصیبت زدہ اور پریشان شخص پر اگر سرزنش اور دھتکار کے کوڑے بھی لگیں تو اس کی تلخی کی تو حد ہی نہ ہوگی لیکن ذرا ان لوگوں کا جواب سنیں کہ یہ لوگ کس پدر ذلیل و خوار ہوگئے ہیں۔ اب وہ برخورداروں کی طرح اپنی غفلت اور حماقت کا اقرار کرتے ہیں ، جبکہ وہ پہلے بڑے غرور کے ساتھ رسولوں کو گمراہ کہتے تھے۔