Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Isra 17:83

17:83
واذا انعمنا على الانسان اعرض وناى بجانبه واذا مسه الشر كان ييوسا ٨٣
وَإِذَآ أَنْعَمْنَا عَلَى ٱلْإِنسَـٰنِ أَعْرَضَ وَنَـَٔا بِجَانِبِهِۦ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ كَانَ يَـُٔوسًۭا ٨٣
وَإِذَآ
أَنۡعَمۡنَا
عَلَى
ٱلۡإِنسَٰنِ
أَعۡرَضَ
وَنَـَٔا
بِجَانِبِهِۦ
وَإِذَا
مَسَّهُ
ٱلشَّرُّ
كَانَ
يَـُٔوسٗا
٨٣
En wanneer Wij Onze gratie over de mens geven, keert hij zich af en wordt hij arrogant. En als het kwaad hem raakt is hij in grote wanhoop.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

زیادہ دولت مندی انسان کو سرکش اور مغرور بنا دیت ہے۔ الایہ کہ کوئی دولت مند یہ یقین رکھتا ہو کہ اس دولت کا عطا کرنے والا اللہ ہے اور وہ اللہ کا شکر بھی ادا کرتا ہو۔ لیکن اگر بدحالی آجائے تو انسان مایوس ہوجاتا ہے اور اس پر قنوطیت چھا جاتی ہے۔ الایہ کہ کسی کا تعلق باللہ مضبوط ہو ، وہ امید کرتا ہے کہ اللہ اس کی مشکلات دور کردے گا تو ایسا شخص اللہ کے رحم و فضل سے مایوس نہیں ہوتا۔ وہ ہر وقت اللہ کے فضل و کرم کا امیداوار اور خوش اور شاکر رہتا ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی کیا اہمیت ہے۔ غرض مشکلات اور خوشحالی دونوں مین ایمان اللہ کی رحمت اور شفاء ہے۔

اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ہر فریق اپنی طرز زندگی پر جما ہوا ہے ، اب اپنی خواہشات و روایات کے مطابق ہر شخص چلتا ہے اور ہر شخص کے طرز عمل کے بارے میں فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔