Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Fath 48:16

48:16
قل للمخلفين من الاعراب ستدعون الى قوم اولي باس شديد تقاتلونهم او يسلمون فان تطيعوا يوتكم الله اجرا حسنا وان تتولوا كما توليتم من قبل يعذبكم عذابا اليما ١٦
قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ ٱلْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُو۟لِى بَأْسٍۢ شَدِيدٍۢ تُقَـٰتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا۟ يُؤْتِكُمُ ٱللَّهُ أَجْرًا حَسَنًۭا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا۟ كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًۭا ١٦
قُل
لِّلۡمُخَلَّفِينَ
مِنَ
ٱلۡأَعۡرَابِ
سَتُدۡعَوۡنَ
إِلَىٰ
قَوۡمٍ
أُوْلِي
بَأۡسٖ
شَدِيدٖ
تُقَٰتِلُونَهُمۡ
أَوۡ
يُسۡلِمُونَۖ
فَإِن
تُطِيعُواْ
يُؤۡتِكُمُ
ٱللَّهُ
أَجۡرًا
حَسَنٗاۖ
وَإِن
تَتَوَلَّوۡاْ
كَمَا
تَوَلَّيۡتُم
مِّن
قَبۡلُ
يُعَذِّبۡكُمۡ
عَذَابًا
أَلِيمٗا
١٦
Zeg tegen de woestijnbewoners die achterblijven (door geen gehoor te geven aan de oproep tot de wapenen): “Jullie zullen (nu door de Profeet, en later door de Kaliefen) opgeroepen worden om te vechten tegen oorlogszuchtige volkeren (zoals de Perzen en de Romeinen), dan zullen zij ofwel tegen jullie vechten ofwel zullen zij zich onderwerpen (en de keuze maken tussen islam of djizya). Als jullie dan gehoorzaam zijn (aan de oproep tot de wapenen), dan zal Allah jullie een eerlijke (en rijkelijke) beloning geven (zowel in dit leven als in het Hiernamaals), maar als jullie je hiervan afkeren, zoals jullie al eerder hebben gedaan (nadat de Profeet jullie had opgeroepen om met hem op ‘omrah te gaan voor de herovering), dan zal Hij jullie (in dit" leven vernederen met een laffe dood en vervolgens jullie) treffen met een pijnlijke bestraffing (in het Hellevuur).”
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 48:16tot 48:17
باب

وہ سخت لڑاکا قوم جن سے لڑنے کی طرف یہ بلائے جائیں گے کون سی قوم ہے؟ اس میں کئی اقوال ہیں ایک تو یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ہوازن ہے، دوسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ ثقیف ہے، تیسرے یہ کہ اس سے مراد قبیلہ بنو حنیفہ ہے، چوتھے یہ کہ اس سے مراد اہل فارس ہیں، پانچویں یہ کہ اس سے مراد رومی ہیں، چھٹے یہ کہ اس سے مراد بت پرست ہیں۔

بعض فرماتے ہیں اس سے مراد کوئی خاص قبیلہ یا گروہ نہیں بلکہ مطلق جنگجو قوم مراد ہے جو ابھی تک مقابلہ میں نہیں آئی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں۔

صفحہ نمبر8591

ایک مرفوع حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایک ایسی قوم سے نہ لڑو جن کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ناک بیٹھی ہوئی ہو گی ان کے منہ مثل تہہ بہ تہہ ڈھالوں کے ہوں گے۔‏“ [صحیح بخاری:2928] ‏

سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد ترک ہیں ایک حدیث میں ہے کہ تمہیں ایک قوم سے جہاد کرنا پڑے گا جن کی جوتیاں بال دار ہوں گی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس سے مراد کرد لوگ ہیں ۔

پھر فرماتا ہے کہ ان سے جہاد قتال تم پر مشروع کر دیا گیا ہے اور یہ حکم باقی رہے گا اللہ تعالیٰ ان پر تمہاری مدد کرے گا یا یہ کہ وہ خودبخود بغیر لڑے بھڑے دین اسلام قبول کر لیں گے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اگر تم مان لو گے اور جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہو جاؤ گے اور حکم کی بجا آوری کرو گے تو تمہیں بہت ساری نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے وہی کیا جو حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا یعنی بزدلی سے بیٹھے رہے جہاد میں شرکت نہ کی احکام کی تعمیل سے جی چرایا تو تمہیں المناک عذاب ہو گا۔ پھر جہاد کے ترک کرنے کے جو صحیح عذر ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے پس دو عذر تو وہ بیان فرمائے جو لازمی ہیں یعنی اندھا پن اور لنگڑا پن اور ایک عذر وہ بیان فرمایا جو عارضی ہے جیسے بیماری کہ چند دن رہی پھر چلی گئی۔

صفحہ نمبر8592

پس یہ بھی اپنی بیماری کے زمانہ میں معذور ہیں ہاں تندرست ہونے کے بعد یہ معذور نہیں پھر جہاد کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار جنتی ہے اور جو جہاد سے بے رغبتی کرے اور دنیا کی طرف سراسر متوجہ ہو جائے، معاش کے پیچھے معاد کو بھول جائے اس کی سزا دنیا میں ذلت اور آخرت کی دکھ مار ہے۔

صفحہ نمبر8593