Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-Anbiya 21:102

21:102
لا يسمعون حسيسها وهم في ما اشتهت انفسهم خالدون ١٠٢
لَا يَسْمَعُونَ حَسِيسَهَا ۖ وَهُمْ فِى مَا ٱشْتَهَتْ أَنفُسُهُمْ خَـٰلِدُونَ ١٠٢
لَا
يَسۡمَعُونَ
حَسِيسَهَاۖ
وَهُمۡ
فِي
مَا
ٱشۡتَهَتۡ
أَنفُسُهُمۡ
خَٰلِدُونَ
١٠٢
Zij zullen er geen geluid van horen, terwijl zij in datgene verblijven wat zij zelf wensen.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 21:98tot 21:106

کائنات کا موجودہ پھیلاؤ امتحان والی دنیا بنانے کے لیے تھا۔ اس کے بعد جب انجام والی دنیا بنانے کا وقت آئے گا تو خدا اس عالم کو سمیٹ دے گا اور غالباً اسی مادہ سے دوسرا عالم بنائے گا جو انجام والے مقاصد کے حسبِ حال ہو۔ ایک دنیا کا وجود میں آنا۔ یہی اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ دوسری دنیا بھی وجود میں لائی جاسکتی ہے۔

موجودہ دنیامیں اکثر برے لوگ بڑائی کا مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ مگر یہ صرف امتحان کی مدت تک کے لیے ہے۔ جب امتحان کی مدت ختم ہوگی اور ابدی طورپر خدا کی معیاری دنیا بنائی جائے گی تو وہاں ہر قسم کی عزت اور راحت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو موجودہ امتحانی دور میں خدا کے سچے بندے ثابت ہوئے تھے۔ یہ بات موجودہ زبور میں بھی تفصیل سے موجود ہے۔ اس کے چند الفاظ یہ ہیں

اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر۔ خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔ وہ تیری راست بازی کو نور کی طرح اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح روشن کرے گا۔ کیوں کہ بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے، صادق زمین کے وارث ہوں گے۔ اور وہ اس میں ہمیشہ بسے رہیںگے (زبور، 37:29 )