Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Fatir 35:22

35:22
وما يستوي الاحياء ولا الاموات ان الله يسمع من يشاء وما انت بمسمع من في القبور ٢٢
وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَحْيَآءُ وَلَا ٱلْأَمْوَٰتُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُسْمِعُ مَن يَشَآءُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُسْمِعٍۢ مَّن فِى ٱلْقُبُورِ ٢٢
وَمَا
يَسۡتَوِي
ٱلۡأَحۡيَآءُ
وَلَا
ٱلۡأَمۡوَٰتُۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
يُسۡمِعُ
مَن
يَشَآءُۖ
وَمَآ
أَنتَ
بِمُسۡمِعٖ
مَّن
فِي
ٱلۡقُبُورِ
٢٢
Noch zijn de levenden gelijk aan de doden. Waarlijk, Allah laat horen wie Hij wil maar jij kunt degenen die in de graven zijn niet laten horen.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

ان اللہ یسمع ۔۔۔۔۔ فکیف کان نکیر (22 – 26) ”

اس کائنات کی حقیقت اور نفس انسانی کی ماہیت میں امتیازات حقیقی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ لوگوں کا مزاج مختلف ہوتا ہے اور دعوت اسلامی کے حوالے سے ان کا ردعمل بھی جدا ہوتا ہے اس طرح جس طرح بصارت اور اندھے پن کا ، سائے اور دھوپ کا ، اندھیروں اور روشنی کا اور حیات اور موت کا ، اور ان تمام معاملات کی پشت پر اللہ کی حکمت اور قدرت کام کر رہی ہوتی ہے۔

لہٰذا رسول صرف نذیر ہوتا ہے۔ اس کی انسانی طاقت محدود ہوتی ہے۔ وہ قبروں کے اندر پڑے مردوں تک دعوت نہیں پہنچا سکتا۔ نہ ایسے چلتے پھرتے مردوں کو وہ دعوت دے سکتا ہے یا سنا سکتا ہے۔ وہ اصل میں حقیقی مردوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اللہ ہی ہے جو ہر اس شخص کو سنا دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ جب چاہے ، جس طرح چاہے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی گمراہ ہوتا ہے تو کیوں ہوتا ہے۔ اگر کوئی منہ پھیرتا ہے تو پھیرے بشرطیکہ رسول ﷺ نے دعوت دے دی ہو اور رسالت کی ڈیوٹی ادا کردی ہو۔ لہٰذا جو سنتا ہے ، سنے ، اور جو اعراض کرتا ہے ، اعراض کرے۔ اس سے قبل رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا تھا۔