Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Fatir 35:42

35:42
واقسموا بالله جهد ايمانهم لين جاءهم نذير ليكونن اهدى من احدى الامم فلما جاءهم نذير ما زادهم الا نفورا ٤٢
وَأَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ لَئِن جَآءَهُمْ نَذِيرٌۭ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى ٱلْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِيرٌۭ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا ٤٢
وَأَقۡسَمُواْ
بِٱللَّهِ
جَهۡدَ
أَيۡمَٰنِهِمۡ
لَئِن
جَآءَهُمۡ
نَذِيرٞ
لَّيَكُونُنَّ
أَهۡدَىٰ
مِنۡ
إِحۡدَى
ٱلۡأُمَمِۖ
فَلَمَّا
جَآءَهُمۡ
نَذِيرٞ
مَّا
زَادَهُمۡ
إِلَّا
نُفُورًا
٤٢
En zij legden bij Allah hun meest bindende eed af: dat als er een waarschuwer tot "hen kwam, zij meer geleid zouden zijn dan welke natie dan ook. Maar toen de waarschuwer tot hen kwam, deed het hen slechts in afkeer toenemen.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 35:42tot 35:43
قسمیں کھا کر مکرنے والے ظالم ٭٭

قریش نے اور عرب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے بڑی سخت قسمیں کھا رکھی تھیں کہ اگر اللہ کا کوئی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں آئے تو ہم تمام دنیا سے زیادہ اس کی تابعداری کریں گے۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «ااَنْ تَقُوْلُوْٓا اِنَّمَآ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰي طَاۗىِٕفَتَيْنِ مِنْ قَبْلِنَا ۠ وَاِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِيْنَ» [6-الأنعام:156] ‏، یعنی اس لیے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے پہلے کی جماعتوں پر تو البتہ کتابیں اتریں۔ لیکن ہم تو ان سے بیخبر ہی رہے۔ اگر ہم پر کتاب اترتی تو ہم ان سے بہت زیادہ راہ یافتہ ہو جاتے۔ تو لو اب تو خود تمہارے پاس تمہارے رب کی بھیجی ہوئی دلیل آ پہنچی ہدایت و رحمت خود تمہارے ہاتھوں میں دی جا چکی اب بتاؤ کہ رب کی آیتوں کی تکذیب کرنے والوں اور ان سے منہ موڑنے والوں سے زیادہ ظالم کون ہے؟ اور آیتوں میں ہے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے اپنے پاس اگلے لوگوں کے عبرتناک واقعات ہوتے تو ہم تو اللہ کے مخلص بندے بن جاتے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے اس کے ان کے پاس آچکنے کے بعد کفر کیا اب انہیں عنقریب اس کا انجام معلوم ہو جائے گا۔ ان کے پاس اللہ کے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور رب کی آخری اور افضل تر کتاب آ چکی لیکن یہ کفر میں اور بڑھ گئے، انہوں نے اللہ کی باتیں ماننے سے تکبر کیا خود نہ مان کر پھر اپنی مکاریوں سے اللہ کے دوسرے بندوں کو بھی اللہ کی راہ سے روکا۔

صفحہ نمبر7307

لیکن انہیں باور کر لینا چاہیئے کہ اس کا وبال خود ان پر پڑے گا۔ یہ اللہ کا نہیں البتہ اپنا بگاڑ رہے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مکاریوں سے پرہیز کرو مکر کا بوجھ مکار پر ہی پڑتا ہے اور اس کی جواب دہی اللہ کے ہاں ہو گی۔ [الدرالمنثور للسیوطی:480/5] ‏ محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین کاموں کاکرنے والا نجات نہیں پا سکتا، ان کاموں کا وبال ان پر یقیناً آئے گا، مکر، بغاوت اور وعدوں کو توڑ دینا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی، انہیں صرف اسی کا انتظار ہے جو ان جیسے ان پہلے گزرنے والوں کا حال ہوا۔ کہ اللہ کے رسولوں کی تکذیب اور فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے اللہ کے دائمی عذب ان پر آ گئے۔ پس یہ تو اللہ تعالیٰ کی عادت ہی ہے اور تو غور کر۔ رب کی عادت بدلتی نہیں نہ پلٹتی ہے۔ جس قوم پر عذاب کا ارادہ الہی ہو چکا پھر اس ارادے کے بدلنے پر کوئی قدرت نہیں رکھتا کہ ان پر سے عذاب ہٹیں نہ وہ ان سے بچیں۔ نہ کوئی انہیں گھما سکے۔ واللہ اعلم۔

صفحہ نمبر7308