Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren

Tafseer: Al-'Ankabut 29:10

29:10
ومن الناس من يقول امنا بالله فاذا اوذي في الله جعل فتنة الناس كعذاب الله ولين جاء نصر من ربك ليقولن انا كنا معكم اوليس الله باعلم بما في صدور العالمين ١٠
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ فَإِذَآ أُوذِىَ فِى ٱللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ ٱلنَّاسِ كَعَذَابِ ٱللَّهِ وَلَئِن جَآءَ نَصْرٌۭ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ أَوَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِى صُدُورِ ٱلْعَـٰلَمِينَ ١٠
وَمِنَ
ٱلنَّاسِ
مَن
يَقُولُ
ءَامَنَّا
بِٱللَّهِ
فَإِذَآ
أُوذِيَ
فِي
ٱللَّهِ
جَعَلَ
فِتۡنَةَ
ٱلنَّاسِ
كَعَذَابِ
ٱللَّهِۖ
وَلَئِن
جَآءَ
نَصۡرٞ
مِّن
رَّبِّكَ
لَيَقُولُنَّ
إِنَّا
كُنَّا
مَعَكُمۡۚ
أَوَلَيۡسَ
ٱللَّهُ
بِأَعۡلَمَ
بِمَا
فِي
صُدُورِ
ٱلۡعَٰلَمِينَ
١٠
Van de mensheid zijn er die zeggen: “Wij geloven in Allah,” maar als zij vervolgd worden voor Allah’s zaak, zien zij de vervolging van de mens als een straf van Allah. En als de overwinning van jouw Heer komt, zullen zij zeggen: “Waarlijk! Wij waren met jullie.” Weet Allah niet het best wat er het innerlijk aller schepselen is?
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith
Je leest een tafsir voor de groep verzen 29:10tot 29:11
مرتد ہونے والے ٭٭

ان منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کر لیتے ہیں لیکن جہاں مخالفین کی طرف سے کوئی دکھ پہنچا کہ یہ اسے اللہ کا عذاب سمجھ کر مرتد ہو جاتے ہیں۔ یہی معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ نے کئے ہیں۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّـهَ عَلَىٰ حَرْ‌فٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ‌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ‌ الدُّنْيَا وَالْآخِرَ‌ةَ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَ‌انُ الْمُبِينُ» [22-الحج:11] ‏ یعنی ” بعض لوگ ایک کنارے کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اگر راحت ملی تو مطمئن ہو گئے اور اگر مصیبت پہنچی تو منہ پھیر لیا۔ “

یہاں یہی بیان ہو رہا ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی غنیمت ملی، کوئی فتح ملی تو اپنا دیندار ہونا ظاہر کرنے لگتے ہیں۔

جیسے اور آیت میں ہے «الَّذِينَ يَتَرَ‌بَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّـهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِ‌ينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ فَاللَّـهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَن يَجْعَلَ اللَّـهُ لِلْكَافِرِ‌ينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا» [4-النساء:141] ‏ یعنی ” وہ تمہیں دیکھتے رہتے ہیں اگر فتح و نصرت ہوئی تو ہانک لگانے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں ہیں؟ اور اگر کافروں کی بن آئی تو ان سے اپنی ساز جتانے لگتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تمہارا ساتھ دیا اور تمہیں بچا لیا۔ “

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بہت ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بالکل ہی غالب کر دے پھر تو یہ اپنی اس چھپی ہوئی حرکت پر صاف نادم ہو جائیں۔ یہاں فرمایا کہ یہ کیا بات ہے؟ انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ اللہ عالم الغیب ہے۔ وہ جہاں زبانی بات جانتا ہے وہاں قلبی بات بھی اسے معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ بھلائیاں، برائیاں پہنچا کر نیک و بد کو مومن ومنافق کو الگ الگ کر دے گا۔ نفس کے پرستار، نفع کے خواہاں یکسو ہو جائیں گے اور نفع نقصان میں ایمان کو نہ چھوڑنے والے ظاہر ہو جائیں گے۔ جیسے فرمایا «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِ‌ينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَ‌كُمْ» [47-محمد:31] ‏ ” ہم تمہیں آزماتے رہا کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے مجاہدین کو اور صابرین کو ہم دنیا کے سامنے ظاہر کر دیں اور تمہاری خبریں دیکھ بھال لیں۔ “

احد کے امتحان کا ذکر کر کے فرمایا کہ اللہ مومنوں کو جس حالت پر وہ تھے، رکھنے والا نہ تھا جب تک کہ خبیث و طیب کی تمیز نہ کر لے۔

صفحہ نمبر6662